کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کراچی کے یلو لائن منصوبے کے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر زمیراحمد عباسی کو ایک دوسرے بدعنوانی مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت سامنے آئی جب انہیں 8.5 ارب روپے سے متعلق ایک الگ مبینہ کرپشن کیس میں ضمانت مل گئی تھی۔ ایف آئی اے نے نئی گرفتاری کے بعد ملزم کو متعلقہ عدالت میں پیش کیا، جہاں انہیں پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر تحقیقاتی ادارے کی تحویل میں دے دیا گیا۔
زمیراحمد عباسی کے خلاف معاملات یلو لائن بس منصوبے اور سرکاری فنڈز کے استعمال سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں زیر سماعت رہے ہیں۔ تاہم مختلف مقدمات میں لگائے گئے الزامات کو حتمی عدالتی فیصلے سے پہلے ثابت شدہ جرم نہیں سمجھا جا سکتا۔ موجودہ گرفتاری بھی تفتیشی مرحلے کی کارروائی ہے اور اس کے قانونی نتائج شواہد، تفتیش اور عدالتی سماعت کے بعد طے ہوں گے۔
ایف آئی اے کی جانب سے دوسری گرفتاری اس لیے اہم ہے کہ ایک مقدمے میں ضمانت ملنے کے باوجود ملزم کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی اور اسے ایک دوسرے کیس میں تحویل میں لے لیا گیا۔ جسمانی ریمانڈ کا مقصد تحقیقاتی ادارے کو محدود مدت کے لیے ملزم سے پوچھ گچھ اور متعلقہ ریکارڈ یا شواہد کی جانچ کا موقع دینا ہوتا ہے؛ یہ سزا یا جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہے۔
کراچی کا یلو لائن منصوبہ شہر کے پبلک ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیے گئے بڑے منصوبوں میں شامل ہے۔ ایسے منصوبوں میں مالی شفافیت، خریداری کے قواعد اور فنڈز کے درست استعمال سے متعلق نگرانی عوامی اہمیت رکھتی ہے۔ اس مقدمے میں بھی آئندہ عدالتی کارروائی سے یہ واضح ہوگا کہ ایف آئی اے کے الزامات کے حق میں کیا شواہد پیش کیے جاتے ہیں اور دفاع ان کا کیا جواب دیتا ہے۔ فی الحال معاملہ زیر تفتیش اور زیر سماعت ہے، اس لیے کسی بھی شخص کی مجرمانہ ذمہ داری کے بارے میں حتمی نتیجہ عدالت کے فیصلے سے ہی اخذ کیا جا سکتا ہے۔
