اسلام آباد: سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے اضلاع پنجگور اور چاغی میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت الگ الگ کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 11 مبینہ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ یہ معلومات سکیورٹی ذرائع سے منسوب ہیں اور دستیاب رپورٹ میں ہلاک افراد کی شناخت یا کارروائیوں کی آزادانہ تصدیق کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

جیو نیوز کے مطابق پنجگور کے گوارگو علاقے میں کارروائی کے دوران پانچ مبینہ دہشت گرد مارے گئے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد ہلاک افراد کے قبضے سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔ رپورٹ میں اس کارروائی کے دورانیے، فورسز کے کسی جانی نقصان یا گرفتار افراد کے بارے میں مزید تفصیل نہیں دی گئی۔

چاغی ضلع میں امین آباد اور سیاہ چنگ کے علاقوں میں بھی سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں کیں۔ ذرائع کے مطابق ان چھاپوں میں چھ مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ اس طرح دونوں اضلاع میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 11 بتائی گئی ہے۔

سکیورٹی ذرائع نے ہلاک افراد کو بھارت کی حمایت یافتہ قرار دیا، تاہم رپورٹ میں اس الزام کے حق میں علیحدہ قابل جانچ شواہد یا متعلقہ افراد کی تفصیلی شناخت پیش نہیں کی گئی۔ اس لیے اس دعوے کو سرکاری یا سکیورٹی ذرائع کے مؤقف کے طور پر ہی بیان کیا جانا مناسب ہے، نہ کہ آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقیقت کے طور پر۔

بلوچستان اور خیبر پختونخوا حالیہ برسوں میں شدت پسند تشدد سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل رہے ہیں۔ جیو نیوز نے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2026 کی دوسری سہ ماہی میں دونوں صوبوں نے ملک میں تشدد سے متعلق ہلاکتوں کا بڑا حصہ ریکارڈ کیا۔

تازہ کارروائیوں کے بارے میں مزید سرکاری تفصیلات، ہلاک افراد کی شناخت، کسی مخصوص تنظیم سے تعلق اور برآمد ہونے والے اسلحے کی نوعیت سامنے آنے پر واقعے کی مکمل تصویر زیادہ واضح ہوسکے گی۔ فی الحال بنیادی دعویٰ سکیورٹی ذرائع کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔