کراچی: سندھ کی پہلی جینڈر پیریٹی رپورٹ نے صوبے میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم سمیت صنفی مساوات کے مختلف شعبوں میں پیش رفت کے ساتھ سنگین خلا کی بھی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ میں خواتین کی مجموعی شرح خواندگی 47 فیصد ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں خواتین کی خواندگی صرف 27.52 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ پانچ سے 16 سال کی عمر کی 40 لاکھ 80 ہزار سے زائد لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں، جو صوبے کے تعلیمی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج ظاہر کرتا ہے۔

رپورٹ میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان واضح فرق سامنے آتا ہے۔ شہری مراکز میں تعلیم، روزگار اور بنیادی خدمات تک رسائی نسبتاً بہتر ہونے کے باوجود دیہی خواتین کو اسکولوں کی دستیابی، فاصلے، نقل و حمل، معاشی مشکلات اور سماجی رکاوٹوں سمیت متعدد مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صوبائی سطح کے اوسط میں بہتری کے باوجود جغرافیائی اور سماجی تفاوت برقرار ہے۔

اس نوعیت کی جینڈر پیریٹی رپورٹ کا مقصد خواتین اور مردوں کے درمیان مواقع، رسائی اور نتائج کے فرق کو قابل پیمائش اعدادوشمار کی صورت میں سامنے لانا ہے تاکہ پالیسی سازی کے لیے واضح بنیاد فراہم ہوسکے۔ تعلیم میں لڑکیوں کا اسکول سے باہر ہونا صرف خواندگی کے اعدادوشمار کو متاثر نہیں کرتا بلکہ مستقبل میں روزگار، آمدنی، صحت اور فیصلہ سازی میں خواتین کی شرکت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔

رپورٹ میں سامنے آنے والے اعدادوشمار پالیسی سازوں کے لیے خاص طور پر دیہی سندھ میں لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ بڑھانے کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔ اسکولوں تک محفوظ اور قابل رسائی آمدورفت، اساتذہ کی دستیابی، بنیادی سہولیات، خاندانوں کے معاشی دباؤ اور ثانوی سطح پر تعلیم جاری رکھنے کے مواقع ایسے عوامل ہیں جن پر الگ الگ پالیسی اقدامات درکار ہوسکتے ہیں۔

جینڈر مساوات کی پیمائش صرف تعلیم تک محدود نہیں رہتی اور عموماً صحت، معاشی شرکت، سرکاری اداروں میں نمائندگی، تحفظ اور فیصلہ سازی جیسے شعبے بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔ سندھ کی پہلی رپورٹ اس لحاظ سے ایک بنیادی حوالہ فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے آئندہ برسوں میں پیش رفت یا تنزلی کا تقابلی جائزہ لیا جاسکے گا۔ تاہم رپورٹ میں درج اعدادوشمار خود پالیسی نتائج کی ضمانت نہیں؛ ان کی بنیاد پر اہداف، بجٹ، نفاذ اور باقاعدہ نگرانی ضروری ہوگی تاکہ خاص طور پر دیہی خواتین اور اسکول سے باہر لڑکیوں کے لیے عملی بہتری سامنے آسکے۔