اسلام آباد: پاکستان میں پولیو کے رپورٹ شدہ کیسز میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور 2026 میں اب تک چار کیسز سامنے آئے ہیں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں ملک میں 74 اور 2025 میں 31 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جس کے مقابلے میں رواں سال کی تعداد میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ماحولیاتی نگرانی کے نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح بھی 10 فیصد سے نیچے آ گئی ہے۔ سیوریج اور دوسرے ماحولیاتی نمونوں کی نگرانی پولیو پروگرام کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے کیونکہ اس سے ایسے علاقوں میں بھی وائرس کی گردش کا سراغ لگایا جا سکتا ہے جہاں فوری طور پر فالج کا کوئی تصدیق شدہ کیس سامنے نہ آیا ہو۔

کیسز اور ماحولیاتی مثبت نمونوں میں کمی انسداد پولیو مہم کے لیے حوصلہ افزا اشارہ ہے، تاہم چار کیسز کی موجودگی یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ وائرس کا خاتمہ ابھی مکمل نہیں ہوا۔ پولیو کے خاتمے کے عالمی معیار کے تحت مسلسل نگرانی، بچوں تک ویکسین کی رسائی اور ہر مہم میں رہ جانے والے بچوں کو دوبارہ شامل کرنا ضروری رہتا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے ان چند ممالک میں شامل رہا ہے جہاں جنگلی پولیو وائرس کی مقامی ترسیل ایک بڑا صحت عامہ کا چیلنج رہی ہے۔ ویکسینیشن ٹیموں کو بعض علاقوں میں سکیورٹی، نقل مکانی، دشوار گزار جغرافیے اور والدین تک رسائی جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ اسی لیے کیسز میں کمی کے باوجود صحت حکام عام طور پر مکمل خاتمے تک مہمات اور نگرانی جاری رکھنے پر زور دیتے ہیں۔

2026 کے اعداد و شمار گزشتہ دو برس کے مقابلے میں واضح بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں، لیکن کسی ایک سال میں کم کیسز کو مستقل کامیابی سمجھنے کے لیے وائرس کی ترسیل کا طویل عرصے تک رکنا ضروری ہے۔ صحت حکام کے لیے اگلا اہم مرحلہ یہ ہے کہ کم ہوتی مثبت شرح کو برقرار رکھا جائے، حساس اضلاع میں نگرانی مضبوط ہو اور ہر بچے کو مقررہ ویکسین خوراکیں مل سکیں۔