کوہاٹ: خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس لائنز کے قریب مسجد اور سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے بڑے حملے میں کم از کم 21 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 80 تک بتائی گئی۔ مختلف ابتدائی سرکاری اور میڈیا رپورٹس میں ہلاکتوں کے اعداد مختلف رہے، اس لیے تعداد میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔

حکام کے مطابق حملہ جمعہ کی نماز کے وقت ہوا، جب پولیس اہلکار اور ان کے اہل خانہ سمیت بڑی تعداد میں لوگ کمپاؤنڈ کی مسجد میں موجود تھے۔ حملے میں بارود سے بھری گاڑی استعمال کیے جانے کی اطلاع ہے جس سے بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا، جس کے بعد مسلح افراد نے فائرنگ شروع کی۔ سکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی اور متعدد حملہ آور مارے گئے۔

رائٹرز نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر کم از کم 16 ہلاکتیں اور 57 زخمی رپورٹ ہوئے تھے، جبکہ بعد میں مقامی حکام اور دیگر خبر رساں اداروں کی اطلاعات میں جانی نقصان بڑھنے کی خبر سامنے آئی۔ حملے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا اور تباہ شدہ حصوں میں امدادی کارروائیاں کی گئیں۔

فوری طور پر کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ رائٹرز کے مطابق تحریک طالبان پاکستان نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی۔ اس لیے حملہ آوروں کی تنظیمی وابستگی کے بارے میں حتمی نتیجہ سرکاری تحقیقات اور قابل تصدیق شواہد سامنے آنے تک اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سمیت وفاقی اور صوبائی حکام نے حملے کی مذمت کی اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ واقعے نے ایک بار پھر خیبر پختونخوا میں پولیس اور سکیورٹی تنصیبات کو درپیش خطرات کو نمایاں کیا ہے۔ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔