اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وزارت خارجہ میں اپوسٹیل اور دستاویزات کی تصدیق کے نظام سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کی میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق کمیٹی کو وزارت کے تصدیقی عمل کا جائزہ لینے، ممکنہ غلط استعمال یا بے ضابطگی کی نشاندہی کرنے اور اس عمل میں شامل کورئیر سروسز کے کردار کو دیکھنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بیرون ملک استعمال ہونے والی پاکستانی دستاویزات کی تصدیق اور اپوسٹیل کا نظام شہریوں، طلبہ، ملازمت کے امیدواروں اور کاروباری افراد کے لیے اہم انتظامی ضرورت بن چکا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے قائم کمیٹی کی تحقیقات کا مقصد یہ معلوم کرنا ہے کہ موجودہ طریقہ کار میں کہیں ایسے انتظامی یا عملی خلا تو موجود نہیں جن سے نظام کا غلط استعمال ممکن ہوا ہو۔ تاہم اس مرحلے پر مبینہ بے ضابطگیوں کو ثابت شدہ بدعنوانی یا حتمی خلاف ورزی قرار نہیں دیا گیا اور تحقیقات کے نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔

اسحاق ڈار نے جمعہ کو ترک سفیر عرفان نذیراوغلو سے ملاقات بھی کی، جس میں پاکستان اور ترکیہ کے دوطرفہ تعلقات، آئندہ مشترکہ کمیشن اور اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کے آٹھویں اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کے درمیان قریبی رابطے پر زور دیا اور کہا کہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور سفارت کاری اہم راستہ ہیں۔

دستاویزات کی تصدیق سے متعلق انکوائری اس ملاقات سے الگ انتظامی معاملہ ہے۔ کمیٹی کی تشکیل بذات خود کسی فرد یا ادارے کے خلاف جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں۔ رپورٹ مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ آیا نظام میں قواعد کی خلاف ورزی، اختیارات کے غلط استعمال یا نگرانی کی کمزوری کے شواہد ملے ہیں اور وزارت کو کن اصلاحات یا کارروائیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔