بہاولپور/لودھراں: لودھراں کے ایک نجی اسکول میں مبینہ طور پر تیزابی کیمیکل کی بوتلیں فرش پر گرنے اور پھٹنے سے 14 بچے جھلس گئے۔ متاثرہ بچوں میں نو لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ریسکیو اور پولیس حکام کے مطابق واقعہ اڈا پرمٹ، ملتان بائی پاس کے قریب واقع اسکول میں پیش آیا، جہاں کم عمر طلبہ وقفے کے دوران کھیل رہے تھے۔

ریسکیو 1122 کے مقامی اہلکار کے مطابق جماعت اول سے چہارم تک کے بچے ایک مشترکہ کمرے میں گیند سے کھیل رہے تھے۔ اسی کمرے میں لیبارٹری کیمیکل کی بوتلیں ایک کھلی الماری میں رکھی ہوئی تھیں۔ ابتدائی بیان کے مطابق گیند بوتلوں سے ٹکرائی، جس کے بعد وہ فرش پر گریں اور ان میں موجود کیمیکل بچوں کے جسموں پر پڑا۔ واقعے کی حتمی وجوہات کا تعین متعلقہ اداروں کی تحقیقات کے بعد ہوگا۔

ایمرجنسی اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 نے چار ایمبولینسیں، دو موٹر بائیکس، ایک ریسکیو گاڑی اور آگ بجھانے کا سامان موقع پر بھیجا۔ زخمی بچوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔ چھ سالہ حسن کو 27 فیصد جھلسنے کے باعث نشتر اسپتال ملتان کے برنز یونٹ منتقل کیا گیا، جبکہ دیگر متاثرہ بچوں کا علاج لودھراں کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں جاری بتایا گیا۔

پولیس کے مطابق اسکول مالک واقعے کے بعد موقع سے چلا گیا۔ ضلعی تعلیمی افسر مظہر مدنی کی شکایت پر پولیس نے پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ ایف آئی آر میں اسکول مالک پر مبینہ غفلت اور لاپرواہی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ یہ الزامات ہیں اور ان کا قانونی فیصلہ تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد مالک کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ واقعے نے اسکولوں میں لیبارٹری کیمیکلز کی محفوظ ذخیرہ کاری، کم عمر طلبہ کی رسائی روکنے اور ہنگامی حفاظتی انتظامات کے سوالات دوبارہ نمایاں کیے ہیں۔ متاثرہ بچوں کی طبی حالت کے بارے میں مزید معلومات اسپتال اور انتظامیہ کی آئندہ رپورٹس سے سامنے آئیں گی۔