اسلام آباد/لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم قانونی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ منی لانڈرنگ کے الزامات کی تحقیقات کو کسی متعلقہ انکم ٹیکس کیس کے حتمی فیصلے تک مؤخر کرنا ضروری نہیں، کیونکہ منی لانڈرنگ اور ٹیکس کی تشخیص یا وصولی الگ نوعیت کی قانونی کارروائیاں ہیں۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مطابق عدالت نے ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن، اِن لینڈ ریونیو، کے اختیارات کو چیلنج کرنے والی درخواستیں مسترد کر دیں۔

سرکاری تفصیلات کے مطابق فیصلہ جسٹس خالد اسحاق اور جسٹس حسن نواز مخدوم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے رٹ پٹیشن نمبر 2928 آف 2026 اور اس سے منسلک مقدمات میں دیا۔ درخواست گزاروں نے ایف بی آر کے I&I-IR ونگ کی جانب سے اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت ایف آئی آر درج کرنے، تحقیقات کرنے اور قانونی کارروائی آگے بڑھانے کے اختیار کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹیکس واجبات کے تعین، تشخیص یا ریکوری کی کارروائی اور مبینہ منی لانڈرنگ سے متعلق فوجداری کارروائی ایک دوسرے سے قانونی طور پر مختلف ہیں۔

ایف بی آر کے بیان کے مطابق عدالت نے واضح کیا کہ اس کے انٹیلی جنس ونگ کو اینٹی منی لانڈرنگ قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے، تفتیش اور پراسیکیوشن کی کارروائی کے قانونی اختیارات حاصل ہیں۔ تاہم اس اختیار کا استعمال بھی قانون، شواہد، متعلقہ طریقہ کار اور ملزم کے بنیادی حقوق کے تابع رہے گا۔ فیصلے کا یہ مطلب نہیں کہ کسی زیرِ تحقیقات شخص کے خلاف جرم ثابت ہو گیا ہے؛ جرم اور ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ عدالت شواہد اور قانونی دلائل کی بنیاد پر کرے گی۔

بزنس ریکارڈر اور دیگر پاکستانی ذرائع نے بھی فیصلے کی رپورٹنگ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے منی لانڈرنگ اور ٹیکس معاملات کے درمیان بنیادی قانونی فرق پر زور دیا۔ ایف بی آر نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مالی جرائم کے خلاف کارروائی کے لیے قانونی وضاحت قرار دیا ہے۔ یہ موقف ایف بی آر کا ہے، جبکہ کسی مخصوص مقدمے میں استغاثہ کو الزامات قانون کے مطابق ثابت کرنا ہوں گے۔

فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ماضی میں بعض مقدمات میں یہ سوال اٹھتا رہا ہے کہ اگر مبینہ غیرقانونی آمدن کا تعلق ٹیکس ریکارڈ یا زیرِ التوا ٹیکس تنازع سے ہو تو کیا منی لانڈرنگ کی کارروائی پہلے شروع کی جا سکتی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے کم از کم ان درخواستوں کے تناظر میں واضح کیا ہے کہ ٹیکس کیس کا اختتام فوجداری منی لانڈرنگ تحقیقات کے آغاز کے لیے لازمی پیشگی شرط نہیں۔ فیصلے کی عملی تطبیق ہر مقدمے کے حقائق، شواہد اور قابلِ اطلاق قانون کے مطابق ہوگی۔