لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے ایک ضلعی عدالت کی جانب سے بچے کی تحویل والدہ کو واپس دیتے وقت عائد کی گئی دو شرائط ختم کر دی ہیں، جن میں سات لاکھ روپے کا ضمانتی مچلکہ جمع کرانا اور ایک سالہ بچے کو عدالت کی علاقائی حدود سے باہر لے جانے پر پابندی شامل تھی۔ جسٹس اسد علی باجوہ نے قرار دیا کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 491 کے محدود دائرہ اختیار میں ایسی پابندیوں کی قانونی بنیاد موجود نہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ دفعہ 491 بنیادی طور پر ہیبیس کارپس نوعیت کی سمری کارروائی ہے، جس کا مقصد مبینہ غیر قانونی یا نامناسب حراست سے رہائی اور فوری حالات میں عبوری تحویل کا انتظام کرنا ہے۔ اگر عدالت کسی موزوں والد یا والدہ کو بچے کی تحویل واپس کر دیتی ہے تو اسی محدود اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اس شخص کی آزادی یا نقل و حرکت پر اضافی پابندیاں عائد نہیں کی جا سکتیں۔

درخواست گزار مصباح بی بی کو سیشن عدالت نے بچے کی حیاتیاتی ماں اور تحویل کے لیے موزوں قرار دیتے ہوئے بچہ واپس کیا تھا۔ تاہم شیخوپورہ کے ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے 10 اگست 2026 کے حکم میں اسے مقامی ضامن کے ساتھ سات لاکھ روپے کا مچلکہ جمع کرانے کا کہا اور طبی ہنگامی حالت کے سوا بچے کو عدالت کی علاقائی حدود سے باہر لے جانے سے روک دیا تھا۔ درخواست گزار اپنے والدین کے ساتھ ضلع حافظ آباد میں رہ رہی تھی۔

والدہ کے وکیل نے ہائیکورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ شرائط دفعہ 491 کے تحت سیشن عدالت کے اختیار سے تجاوز کرتی ہیں۔ بچے کے والد نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے پابندیوں کو قانونی قرار دیا اور ہائیکورٹ میں درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بھی اعتراض اٹھایا۔ جسٹس باجوہ نے تاہم قرار دیا کہ ایسی شرائط دفعہ 491 کے مقصد اور قانونی ڈھانچے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

عدالت نے یہ فرق بھی واضح کیا کہ والد یا والدہ کی بچے کے ساتھ نقل و حرکت سے متعلق مستقل یا تفصیلی پابندیاں گارڈین کورٹ کے دائرہ کار میں آتی ہیں، نہ کہ دفعہ 491 کے تحت سمری اختیار استعمال کرنے والے سیشن جج کے۔ ہائیکورٹ نے والدہ کی درخواست منظور کرتے ہوئے متنازع حکم میں شامل پابندیاں ختم کر دیں۔ فیصلہ بچوں کی فوری تحویل اور مستقل سرپرستی کے الگ قانونی فورمز کے درمیان دائرہ اختیار کی حد کو نمایاں کرتا ہے۔