لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے موٹر اسپرٹ کی درآمد سے متعلق ایک اہم کسٹمز تنازع میں قرار دیا ہے کہ وہ کارگو جو ایس آر او 806 کے نافذ ہونے سے پہلے پاکستان پہنچ چکے تھے، ان پر بعد میں عائد کی گئی 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی لاگو نہیں ہوگی۔ عدالتی فیصلہ اس بنیادی اصول سے متعلق ہے کہ درآمدی مال پر ٹیکس یا ڈیوٹی کی ذمہ داری کس قانونی تاریخ اور مرحلے پر متعین ہوتی ہے۔
درآمدی تجارت میں جہاز کی آمد، گڈز ڈیکلریشن، کلیئرنس اور متعلقہ ٹیکس نوٹیفکیشن کی تاریخیں کسی محصول کے اطلاق کے لیے فیصلہ کن ہو سکتی ہیں۔ اس مقدمے میں عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا ایک نیا ریگولیٹری ڈیوٹی نوٹیفکیشن ایسے موٹر اسپرٹ کارگو پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے جو نوٹیفکیشن نافذ ہونے سے پہلے ملک میں پہنچ چکا تھا۔
عدالت نے متعلقہ قانونی دفعات اور نوٹیفکیشن کے اطلاق کا جائزہ لینے کے بعد ایسے کارگو پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی وصولی کو قابل اطلاق نہیں سمجھا۔ فیصلے کا فوری فائدہ ان درآمد کنندگان تک محدود ہوگا جن کی consignments کی قانونی اور زمانی صورت حال مقدمے میں زیر بحث معیار سے مطابقت رکھتی ہو۔
ریگولیٹری ڈیوٹی حکومت کی جانب سے مخصوص درآمدات پر عائد کی جانے والی اضافی محصولی شرح ہے، جسے تجارتی پالیسی، درآمدی طلب یا محصولات کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی نئی شرح کا ماضی کے لین دین پر اطلاق قانونی certainty اور ٹیکس قوانین کے prospective یا retrospective اثر سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔
عدالتی فیصلے کو تمام پٹرول یا موٹر اسپرٹ درآمدات سے 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی ختم ہونے کے طور پر نہیں پڑھا جانا چاہیے۔ فیصلہ ان cargoes کے مخصوص زمرے سے متعلق ہے جو ایس آر او 806 کے نفاذ سے پہلے پہنچے تھے۔ بعد کی درآمدات پر متعلقہ وقت میں نافذ قانونی شرحیں بدستور لاگو ہو سکتی ہیں۔
اس فیصلے کے مالی اثر کا انحصار ان متاثرہ cargoes کے حجم اور ان درآمد کنندگان کی تعداد پر ہوگا جو عدالتی اصول کے دائرے میں آتے ہیں۔ کسٹمز حکام یا دیگر فریق اگر قانون میں دستیاب اپیل کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو معاملہ مزید عدالتی جانچ سے بھی گزر سکتا ہے، اس لیے موجودہ رپورٹ لاہور ہائیکورٹ کے جاری کردہ فیصلے تک محدود ہے۔

