اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کے ٹیرف نظام میں اصلاحات ملکی صنعت کی مسابقت بڑھانے اور برآمدات پر مبنی معاشی نمو کے لیے اہم ہیں۔ ان کے مطابق حکومت تجارتی اور صنعتی پالیسی کو ایسے فریم ورک کی طرف لے جانا چاہتی ہے جس میں خام مال اور درمیانی اشیا کی لاگت کم ہو، کاروبار عالمی منڈیوں سے بہتر طور پر جڑ سکیں اور برآمدی شعبے کے لیے مسابقتی ماحول پیدا ہو۔
وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ بلند درآمدی تحفظ طویل مدت میں مقامی صنعت کو عالمی مقابلے سے دور رکھ سکتا ہے اور پیداواری لاگت میں اضافہ کرسکتا ہے۔ حکومت کا اصلاحاتی مؤقف یہ ہے کہ کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹیز سمیت ٹیرف ڈھانچے کو بتدریج زیادہ سادہ اور قابل پیش گوئی بنایا جائے تاکہ کاروباری اداروں کو سرمایہ کاری اور پیداوار کے فیصلوں میں زیادہ وضاحت مل سکے۔
ٹیرف اصلاحات کا معاملہ پاکستان کی وسیع معاشی حکمت عملی سے منسلک ہے، جس میں برآمدات میں اضافہ، نجی سرمایہ کاری، ٹیکس نظام میں بہتری اور سرکاری مالیات کو مستحکم کرنا شامل ہے۔ تاہم درآمدی محصولات حکومت کی آمدنی کا بھی اہم ذریعہ ہیں، اس لیے ٹیرف میں تبدیلی کے دوران مالی محصولات، مقامی صنعت کے تحفظ اور صارفین پر قیمتوں کے اثرات کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہوگا۔
حکومت نے اصلاحات کو مرحلہ وار آگے بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔ کسی مخصوص صنعت یا درآمدی شے پر حتمی شرح کا اطلاق متعلقہ قانونی اور بجٹ اقدامات کے مطابق ہوگا۔ اس لیے وزیر خزانہ کے پالیسی بیان کو تمام ٹیرف فوری طور پر ختم یا کم کیے جانے کا اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اصلاحات کے حقیقی اثرات برآمدی کارکردگی، صنعتی سرمایہ کاری، درآمدی لاگت اور سرکاری محصولات کے آئندہ اعدادوشمار سے واضح ہوں گے۔

