کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 23 اکتوبر کو روایتی اور شریعہ مطابق اوپن مارکیٹ آپریشنز کے ذریعے بینکاری نظام میں مجموعی طور پر 13.061 ٹریلین روپے کی قلیل مدتی لیکویڈیٹی فراہم کی۔ مرکزی بینک کے نیلامی نتائج کے مطابق روایتی ریورس ریپو آپریشنز میں 12.601 ٹریلین روپے جبکہ اسلامی مضاربہ پر مبنی آپریشنز میں 460.40 ارب روپے قبول کیے گئے۔

روایتی اوپن مارکیٹ آپریشن میں بینکوں نے مجموعی طور پر 13.081 ٹریلین روپے کی پیشکشیں جمع کرائیں۔ سات روزہ مدت کے لیے 276 ارب روپے 11.55 فیصد شرح پر قبول کیے گئے اور اس مدت کی تمام پانچ بولیاں منظور ہوئیں۔ چودہ روزہ مدت میں 12.325 ٹریلین روپے کی پیشکشیں قبول کی گئیں، جہاں شرح 11.53 فیصد رہی اور 33 میں سے 32 بولیاں منظور کی گئیں۔

شریعہ مطابق مضاربہ آپریشن میں مرکزی بینک نے پیش کی گئی مکمل 460.40 ارب روپے کی رقم قبول کی۔ اس میں 32 ارب روپے سات روز کے لیے 11.56 فیصد اور 428.40 ارب روپے چودہ روز کے لیے 11.55 فیصد شرح منافع پر فراہم کیے گئے۔ اس حصے میں جمع کرائی گئی تمام 11 بولیاں قبول ہوئیں۔

اوپن مارکیٹ آپریشن مرکزی بینک کا معمول کا مالیاتی آلہ ہے جس کے ذریعے بینکاری نظام میں قلیل مدتی نقدی کی ضرورت پوری یا اضافی لیکویڈیٹی جذب کی جاتی ہے۔ اس لیے 13.061 ٹریلین روپے کی منظور شدہ رقم کو حکومت کے نئے ترقیاتی اخراجات یا مستقل قرض کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے؛ یہ سات اور چودہ روز کی محدود مدت کے مالیاتی آپریشنز ہیں۔

تازہ نیلامی میں زیادہ تر رقم چودہ روزہ مدت کے لیے فراہم ہوئی، جو بینکاری نظام کی قلیل مدتی فنڈنگ ضروریات اور مرکزی بینک کے لیکویڈیٹی مینجمنٹ فریم ورک کی عکاسی کرتی ہے۔ شرح سود اور مالیاتی پالیسی کے وسیع تر رخ کا تعین مانیٹری پالیسی کمیٹی کے فیصلوں اور مہنگائی، بیرونی کھاتے اور معاشی سرگرمی سمیت دیگر اشاریوں کی بنیاد پر الگ عمل کے ذریعے ہوتا ہے۔