لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ان ہدایات پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے جن کے تحت پاکستان میں زیر تعلیم افغان میڈیکل طلبہ کو افغانستان واپس جانے کے لیے کہا گیا تھا۔ جسٹس خالد اسحاق نے 13 افغان طلبہ کی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ سرکاری اداروں اور تعلیمی اداروں سے جواب طلب کیا اور عبوری طور پر طلبہ کو اپنی تعلیم جاری رکھنے، امتحانات میں شرکت کرنے اور ہاسٹل واپس جانے کی اجازت دینے کا حکم دیا۔

عدالتی کارروائی میں بتایا گیا کہ پی ایم ڈی سی نے 31 جولائی اور یکم ستمبر کو پالیسی ہدایات جاری کی تھیں۔ یکم ستمبر کے مراسلے میں میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں سے کہا گیا تھا کہ موجودہ تعلیمی سیشن میں افغان شہریوں کے داخلے، پلیسمنٹ، ٹرانسفر یا دیگر سہولت کاری کی اجازت نہ دی جائے، جبکہ پہلے سے زیر تعلیم افغان طلبہ کی واپسی سے متعلق بھی ہدایات دی گئی تھیں۔ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی نے ان ہدایات کے بعد 20 افغان ایم بی بی ایس طلبہ کو رپورٹ کرنے کا کہا تھا۔

درخواست گزار طلبہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ کو سنے بغیر ان کے خلاف فیصلہ کیا گیا اور ان کے تعلیم، زندگی اور وقار سے متعلق حقوق متاثر ہوئے۔ درخواستوں میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ایم ڈی سی نے اپنے قانونی اختیار سے تجاوز کیا۔ دوسری جانب کونسل کے وکیل نے عدالت کے سامنے قومی سلامتی سے متعلق مؤقف پیش کیا، تاہم عدالت نے عبوری حکم کے ذریعے متنازع ہدایات کو معطل کر دیا۔ مقدمے کے حتمی قانونی نکات پر فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔

عدالت نے وزارت صحت، پی ایم ڈی سی اور متعلقہ اداروں کے وائس چانسلرز سے 18 ستمبر تک جواب طلب کیا ہے۔ درخواست گزار لاہور کے مختلف طبی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، جن میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی، شیخ خلیفہ بن زاید النہیان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج اور سروسز انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز شامل ہیں۔

اس معاملے پر دفتر خارجہ نے بھی وضاحت کی تھی کہ حکومت نے تمام افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کا کوئی عمومی فیصلہ نہیں کیا۔ ترجمان کے مطابق تسلیم شدہ ڈگری پروگراموں میں داخل اور درست ویزا رکھنے والے افغان طلبہ اپنی تعلیم مکمل کر سکتے ہیں، جبکہ غیر رجسٹرڈ یا درست ویزا نہ رکھنے والے افراد کے معاملات مختلف ہوں گے۔ لاہور ہائیکورٹ کا موجودہ حکم عبوری نوعیت کا ہے اور آئندہ سماعت میں فریقین کے تفصیلی جوابات کے بعد مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے۔