اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات نے پاکستان پوسٹ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے وسیع اصلاحات، ڈیجیٹلائزیشن، مالی تنظیم نو اور آمدن کے نئے ذرائع پیدا کرنے پر زور دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کمیٹی کا اجلاس سینیٹر پرویز رشید کی صدارت میں ہوا، جس میں پاکستان پوسٹ کے انتظامی امور، مالی پوزیشن، آٹومیشن اور جدید خدمات کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سینیٹر طلحہ محمود نے پاکستان پوسٹ کی نجکاری کی تجویز پیش کی اور مؤقف اختیار کیا کہ ادارہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی پرانے طریقہ کار پر کام کر رہا ہے۔ سینیٹر کامل علی آغا نے بھی ادارے کی کارکردگی اور عوامی اعتماد سے متعلق تحفظات ظاہر کیے۔ یہ آرا کمیٹی ارکان کی تجاویز ہیں؛ رپورٹ میں پاکستان پوسٹ کی نجکاری کا کوئی حتمی حکومتی فیصلہ بیان نہیں کیا گیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان پوسٹ کے ملک بھر میں 9,946 ڈاک خانے، 85 جنرل پوسٹ آفس، 743 فرنچائز دفاتر، 53 میل آفس اور چھ بین الاقوامی میل ایکسچینج مراکز ہیں، جبکہ مستقل ملازمین کی تعداد 21,213 ہے۔ حکام کے مطابق ادارے کی تقریباً 60 فیصد آمدن ایجنسی خدمات سے وابستہ رہی ہے، تاہم فوجی پنشن کی ادائیگی اور سیونگ بینک سرگرمیوں کی کمرشل بینکوں کو منتقلی سے روایتی آمدنی متاثر ہوئی۔
ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی اور آٹومیشن کے لیے فنڈز کی کمی بڑی رکاوٹ ہے اور وینڈرز کے تقریباً 6.4 ارب روپے کے واجبات ہیں۔ حکام نے بتایا کہ 2,761 ڈاک خانوں کی آٹومیشن کا منصوبہ 1.36 ارب روپے کی فنانسنگ کے ساتھ دوبارہ فعال کیا گیا ہے، جس میں کوریا کے ایگزم بینک کی معاونت شامل ہے۔ کمیٹی نے مختص رقم کے اجرا اور منصوبے پر عمل درآمد تیز کرنے کی سفارش کی۔
قائمہ کمیٹی نے پاکستان پوسٹ کو صرف اندرونی نظام کی کمپیوٹرائزیشن تک محدود نہ رہنے بلکہ ای کامرس، لاجسٹکس اور آن لائن نیٹ ورکنگ خدمات بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔ ادارے سے آمدن بڑھانے، نجی کورئیر کمپنیوں کے ماڈلز کا تقابلی جائزہ لینے اور ملک بھر میں موجود قیمتی جائیدادوں کے بہتر تجارتی استعمال کے لیے تفصیلی منصوبے طلب کیے گئے۔
اجلاس میں گزشتہ تین برس کے مالی نقصانات، پارسل گم ہونے یا چوری کی شکایات اور بین الاقوامی ڈاک پر علاقائی کشیدگی کے اثرات بھی زیر بحث آئے۔ حکام کے مطابق پاکستان پوسٹ نے کیش لیس نظام کے سلسلے میں نیشنل بینک آف پاکستان کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں اور اسلام آباد و راولپنڈی میں پائلٹ کام جاری ہے۔ کمیٹی کی سفارشات اب ادارے کی اصلاحاتی سمت اور متعلقہ حکومتی فیصلوں کے لیے اہم بنیاد بن سکتی ہیں، تاہم ان میں سے متعدد اقدامات ابھی سفارش یا منصوبہ بندی کے مرحلے میں ہیں۔




