اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ عدالتوں اور نیم عدالتی حکام پر لازم ہے کہ کسی فریق کے خلاف منفی فیصلہ یا کارروائی کرنے سے پہلے اسے مؤثر طور پر سنا جائے اور قانونی طریقۂ کار کی پابندی کی جائے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پنجاب حکومت کی اپیل نمٹاتے ہوئے منصفانہ سماعت کے آئینی حق پر زور دیا۔
دس صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے آرٹیکل 10 اے کے تحت منصفانہ ٹرائل کے حق کو بنیادی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ عدالت یا نیم عدالتی ادارہ ہر مقدمے کے حالات میں یہ دیکھنے کا پابند ہے کہ فریق کو یہ حق حقیقتاً فراہم کیا گیا یا نہیں۔ فیصلہ پنجاب کے ریونیو حکام کی جانب سے اراضی کی منسوخی سے متعلق تنازع میں سامنے آیا، جہاں متاثرہ خریداروں کو کارروائی سے پہلے سماعت کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔
عدالت نے پنجاب کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈز قانون کی متعلقہ شق کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ زمین واپس لینے، رقبہ کم کرنے یا ایسا کوئی حکم جاری کرنے سے پہلے وجہ بتانے اور جواب دینے کا مناسب موقع دینا محض رسمی تقاضا نہیں بلکہ بنیادی قانونی شرط ہے۔ اس شرط کی خلاف ورزی میں کی گئی یک طرفہ کارروائی قانونی اختیار سے تجاوز کے مترادف ہو سکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے سرکاری اداروں کی جانب سے اپیل دائر کرنے میں تاخیر کے معاملے پر بھی اصول واضح کیا۔ فیصلے کے مطابق حکومت یا اس کے محکموں کو صرف سرکاری حیثیت کی بنیاد پر غیر معمولی رعایت یا ترجیحی سلوک نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ تاخیر کی معافی کے لیے معقول وجہ اور ہر دن کی تاخیر کی وضاحت ضروری ہے، اور سرکاری محکموں کے پاس اپنے قانونی شعبوں اور لاء افسران کی معاونت موجود ہوتی ہے۔
عدالت نے متعلقہ محکمے کی تاخیر کی وضاحت کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تاخیر معاف کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ فیصلے کا بنیادی قانونی نکتہ یہ ہے کہ ریاستی اداروں سمیت تمام فریق یکساں طریقۂ کار کے پابند ہیں اور کسی محفوظ قانونی حق کو متعلقہ شخص کو سنے بغیر یک طرفہ انتظامی اقدام سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔




