میلسی میں ستھرا پنجاب پروگرام کے انتظام، صفائی کی صورتحال اور افرادی قوت و مشینری کے ریکارڈ سے متعلق سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق مقامی ذرائع نے ٹھیکیدار کمپنی اور بعض انتظامی اہلکاروں پر سرکاری پالیسی پر مکمل عمل نہ کرنے، صفائی کا معیار برقرار نہ رکھنے اور فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کے سوالات اٹھائے ہیں۔ یہ تمام نکات الزامات اور ذرائع کے دعوے ہیں؛ آزادانہ تحقیقات یا کسی عدالت نے انہیں ثابت شدہ بدعنوانی قرار نہیں دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ تحصیل کے مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیر اور عارضی ڈمپنگ مقامات کی شکایات موجود ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ٹھیکیدار کمپنی بعض شرائط پر عمل سے گریز کے لیے حکمِ امتناع کو بنیاد بنا رہی ہے اور بعض انتظامی اہلکار مبینہ طور پر کمپنی کی مدد کرتے ہیں۔ دی نیشن نے واضح لکھا کہ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ستھرا پنجاب کے منیجنگ ڈائریکٹر کے حالیہ دورۂ میلسی پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ ذرائع نے الزام لگایا کہ دورے کا قابلِ ذکر حصہ ایک انتظامی افسر کے دفتر اور رہائش گاہ پر گزرا، جبکہ زمینی صفائی کی صورتحال پر محدود توجہ دی گئی۔ یہ دعویٰ بھی آزادانہ تصدیق کا منتظر ہے اور متعلقہ افسر یا ادارے کا جواب رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔
الزامات کا ایک حصہ پٹرول و ڈیزل کے اخراجات، مشینری کے ریکارڈ اور بلنگ سے متعلق ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میدان میں تعینات صفائی کارکنوں کی حقیقی تعداد اور سرکاری ریکارڈ میں درج تعداد کے درمیان فرق ہوسکتا ہے۔ بعض یونین کونسلوں میں افرادی قوت 60 فیصد تک کم ہونے کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ ریکارڈ میں زیادہ کارکن دکھائے جانے کے سوالات بھی اٹھے۔ اس عدد کو کسی سرکاری آڈٹ کی حتمی finding نہیں سمجھا جا رہا۔
رپورٹ میں کارکنوں کو نکالنے اور دوبارہ رکھنے، نئی بھرتی کے نام پر رقم جمع کرنے، مبینہ فرضی ملازمین اور مشینری کے اندراجات میں فرق جیسے الزامات بھی شامل ہیں۔ نگرانی کے نظام کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ بعض اہلکار اعلیٰ حکام کو زمینی حقیقت سے زیادہ مثبت رپورٹس بھیج سکتے ہیں۔ کسی نامزد فرد کے خلاف سزا، چارج شیٹ یا مکمل تحقیقاتی رپورٹ کا ذکر نہیں کیا گیا۔
صفائی کی خراب صورتحال کی شکایات ٹبہ سلطان پور، دوکوٹہ، گڑھا موڑ، مترو، کرم پور، میراں پور، بدھو، علی والا، ککری، اڑے واہن، جلہ جیم، فتح پور، ورسی واہن اور میلسی شہر کی مختلف آبادیوں سے منسوب کی گئیں۔ مقامی سماجی حلقوں نے پروگرام کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر انفرادی غفلت یا بدانتظامی ہو تو منصوبے کے مقاصد متاثر ہوسکتے ہیں۔
شفاف نتیجے کے لیے متعلقہ کمپنی اور افسران کا مؤقف، منظور شدہ افرادی قوت، حاضری، ایندھن کے بل، مشینری لاگ اور آزاد موقع معائنہ درکار ہوگا۔ اردو ہیڈ لائنز اس مرحلے پر دعووں کو دی نیشن اور اس کے ذرائع سے منسوب کر رہا ہے اور کسی شخص یا ادارے کو تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے قصوروار قرار نہیں دے رہا۔




