وفاقی حکومت نے میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی، نیکٹا، کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کردیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے 4 ستمبر 2026 کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرری نیکٹا ایکٹ 2013 کی دفعہ 9(1) کے تحت سیکنڈمنٹ بنیاد پر تین سال کے لیے کی گئی ہے۔ حکم فوری طور پر نافذ ہوگا، معیاری سرکاری شرائط کے تابع رہے گا اور مزید احکامات تک مؤثر ہوگا۔

نوٹیفکیشن میں میجر جنرل فیصل نصیر کے اعزازات کے ساتھ ان کا نام درج کیا گیا اور متعلقہ حکام کو چارج سنبھالنے کی رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ تین سال کی مدت تقرری کا متعین عرصہ ہے، تاہم ’’مزید احکامات تک‘‘ کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ قابل اطلاق قانون اور سرکاری اختیار کے تحت آئندہ انتظامی فیصلہ بھی ممکن رہتا ہے۔ اس خبر میں تقرری کی تصدیق نوٹیفکیشن کے متن اور متعدد قومی اخبارات کی رپورٹنگ سے کی گئی ہے۔

نیکٹا وفاقی سطح کا ادارہ ہے جس کا مقصد دہشت گردی اور انتہاپسندی سے متعلق پالیسی، معلومات اور ادارہ جاتی رابطے کو یکجا کرنا ہے۔ قانون کے تحت نیشنل کوآرڈینیٹر اتھارٹی کے انتظامی و رابطہ جاتی کام کی قیادت کرتا ہے اور وفاقی و صوبائی حکومتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کے درمیان پالیسی تعاون میں کردار ادا کرتا ہے۔ یہ عہدہ کسی ایک فوجی یا پولیس آپریشن کی براہِ راست کمان کے مترادف نہیں؛ اس کے اختیارات نیکٹا ایکٹ، قواعد اور حکومتی انتظامی ڈھانچے سے متعین ہوتے ہیں۔

نیکٹا کو قومی انسدادِ دہشت گردی اور انسدادِ انتہاپسندی حکمت عملی تیار کرنے، خطرات کے بارے میں تجزیہ اور سفارشات دینے، متعلقہ اداروں سے معلومات کے تبادلے کو سہل بنانے اور قومی ایکشن پلان کے مختلف پہلوؤں کی نگرانی و رابطے میں کردار سونپا گیا ہے۔ عملی طور پر ان ذمہ داریوں کے لیے وفاق، صوبوں، پولیس، انٹیلی جنس اور دیگر اداروں کے درمیان بروقت معلومات اور واضح جواب دہی ضروری ہوتی ہے۔ نئی تقرری خود کسی نئی حکمت عملی، آپریشن یا قانونی اختیار کا اعلان نہیں ہے۔

قومی اخبارات کے مطابق میجر جنرل فیصل نصیر اس تقرری سے پہلے انٹر سروسز انٹیلی جنس میں ایک سینئر ذمہ داری انجام دے رہے تھے۔ ان کے سابقہ منصب اور اس کے دائرۂ کار کے بارے میں مختلف ذرائع میں اصطلاحات کا فرق پایا جاتا ہے، اس لیے یہاں صرف اتنا کہنا مناسب ہے کہ وہ ایک حاضر سروس سینئر فوجی افسر ہیں اور نیکٹا میں سیکنڈمنٹ پر تعینات کیے گئے ہیں۔ نوٹیفکیشن نے ان کی سابقہ ذمہ داری کی تفصیلی وضاحت یا نئی پالیسی ترجیحات جاری نہیں کیں۔

نیکٹا کی قیادت ماضی میں متعدد مرتبہ تبدیل ہوتی رہی ہے اور اس ادارے کی مؤثریت کے بارے میں پارلیمانی و پالیسی سطح پر بحث ہوتی رہی ہے۔ نئی تعیناتی کے عملی نتائج کا جائزہ تقرری کے اعلان سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ اتھارٹی خطرات کی مشترکہ جانچ، وفاقی و صوبائی رابطے، پالیسی عمل درآمد اور ادارہ جاتی صلاحیت میں کتنی قابلِ پیمائش بہتری لاتی ہے۔ کسی افسر کے تجربے سے متوقع فائدے کو حاصل شدہ نتیجہ قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

اس تقرری کے ساتھ نیکٹا کے موجودہ منصوبوں، بجٹ، عملے یا انسدادِ دہشت گردی کے کسی نئے پروگرام میں تبدیلی کا الگ اعلان نہیں کیا گیا۔ اسی طرح نوٹیفکیشن کسی جاری تفتیش، عدالتی کارروائی یا سیاسی معاملے کے بارے میں کوئی نتیجہ بیان نہیں کرتا۔ اسے صرف ایک قانونی و انتظامی تعیناتی کے طور پر رپورٹ کیا جانا چاہیے۔

فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے میجر جنرل فیصل نصیر کو دفعہ 9(1) کے تحت سیکنڈمنٹ پر تین سال کے لیے نیکٹا کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کیا ہے اور حکم فوری اثر سے نافذ ہے۔ ان کی ترجیحات، ادارہ جاتی اصلاحات اور قابلِ پیمائش اہداف نیکٹا یا وزارت داخلہ کے آئندہ اعلانات اور عملی کارکردگی سے واضح ہوں گے۔