اسلام آباد/استنبول: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کے تحت تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے سعودی عرب میں مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے، جس کی ابتدائی تین سالہ مدت میں سیکریٹری جنرل پاکستان سے ہو گا۔ یہ فیصلہ 31 اگست 2026 کو استنبول میں معاہدے کی تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا گیا، جبکہ مشترکہ بیان یکم ستمبر کو جاری ہوا۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم ہو گا اور معاہدے کے تحت مشترکہ کام، رابطہ اور فیصلوں کی پیروی میں معاونت کرے گا۔ پہلے سیکریٹری جنرل کے لیے پاکستان کو نامزد کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے، لیکن 2 ستمبر کی وزارتِ خارجہ بریفنگ تک کسی فرد کا نام، تقرری کی تاریخ یا یہ تفصیل سامنے نہیں آئی تھی کہ عہدہ کسی سفارت کار، فوجی افسر یا دوسرے اہلکار کو دیا جائے گا۔

افتتاحی اجلاس میں تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے اعلیٰ سربراہان یا چیف آف جنرل اسٹاف شریک ہوئے۔ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی۔ اجلاس استنبول کے چراغان پیلس میں ہوا اور یہ 7 اگست کو طے پانے والے سہ فریقی دفاعی بندوبست کے بعد پہلا باقاعدہ ادارہ جاتی اجلاس تھا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ تینوں ممالک یکجہتی، اجتماعی بازدارندگی اور دفاع کی ساکھ و مؤثریت مضبوط کرنے کے لیے تعاون کو مزید منظم کریں گے۔ فریقین نے مشترکہ سرگرمیوں، دفاعی صنعت میں وسیع تعاون، ٹیکنالوجی کی مشترکہ تیاری اور پیداوار، اور مسلح افواج کی صلاحیت و باہمی ہم آہنگی بڑھانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ بیان میں کسی مخصوص مشترکہ فوجی یونٹ، فوری تعیناتی، نئے اڈے یا آپریشن کا اعلان نہیں کیا گیا۔

فریقین نے علاقائی ملکیت، کشیدگی میں کمی، تحمل اور بحرانوں کے پرامن حل کی حمایت کرتے ہوئے معاہدے کو منصفانہ، جامع اور دیرپا امن میں مدد دینے والا دفاعی فریم ورک قرار دیا۔ ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ یہ بندوبست کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں اور دوسرے ممالک کی ممکنہ شرکت کے لیے اصول و شرائط کے تحت کھلا رہ سکتا ہے۔ تاہم پاکستانی وزارتِ خارجہ نے 2 ستمبر تک بتایا کہ کسی نئے ملک کی باضابطہ درخواست یا متفقہ شمولیت کا اعلان نہیں ہوا۔

استنبول اجلاس کے بعد بعض ابلاغی رپورٹس میں اسے ’’مکہ دفاعی اتحاد‘‘ کا نام دیا گیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے بعد میں وضاحت کی کہ مختلف زبانوں میں نام کے استعمال میں فرق ہو سکتا ہے اور کسی رسمی تبدیلی کی صورت میں الگ اعلان کیا جائے گا۔ سرکاری مشترکہ بیان کا عنوان بدستور مکہ معاہدہ برائے مشترکہ دفاع کی تزویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی سے متعلق ہے، اس لیے خبر میں ادارہ جاتی فیصلے کو نام سے متعلق سیاسی تعبیر سے الگ رکھا گیا ہے۔

اجلاس کے موقع پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی و سفارتی نمائندوں نے الگ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کیں۔ سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دفاعی تعاون اور علاقائی صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا، جبکہ پاکستانی اور ترک حکام نے مشترکہ دفاعی تعاون بڑھانے پر بات کی۔ یہ ملاقاتیں کمیٹی کے وسیع عمل کا حصہ تھیں، مگر ان میں کسی نئے دوطرفہ دفاعی معاہدے کی مکمل تفصیل جاری نہیں کی گئی۔

ریاض میں سیکریٹریٹ اور پاکستانی سیکریٹری جنرل کا فیصلہ معاہدے کے نفاذ کے لیے انتظامی بنیاد فراہم کرتا ہے، لیکن اس سے خود بخود کسی فوجی کارروائی یا رکن ملک کے خلاف خطرے کے جواب کا حتمی طریقہ طے نہیں ہو جاتا۔ عملی ڈھانچے، قواعدِ کار، بجٹ، عملے، فیصلوں کے طریقۂ کار اور مشترکہ سرگرمیوں کی تفصیل آئندہ اجلاسوں اور سرکاری اعلانات سے واضح ہو گی۔