اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اتفاق رائے سے پاکستان کی قیادت میں ’معاون ٹیکنالوجی تک رسائی‘ کے عنوان سے قرارداد منظور کر لی ہے۔ یہ جنرل اسمبلی کی پہلی قرارداد ہے جو خصوصی طور پر معاون ٹیکنالوجی کے موضوع کے لیے وقف کی گئی ہے اور اس میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں سستی اور قابل رسائی معاون مصنوعات اور خدمات کی فراہمی بہتر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے قرارداد متعارف کراتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً 2.5 ارب افراد کو ایک یا زیادہ معاون مصنوعات، آلات یا متعلقہ خدمات کی ضرورت ہے، لیکن بڑی تعداد اب بھی زیادہ قیمت، محدود دستیابی، ناکافی بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی تک کم رسائی اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی جیسی رکاوٹوں کا سامنا کرتی ہے۔
معاون ٹیکنالوجی میں وہیل چیئر، مصنوعی اعضا، سماعتی آلات، اسکرین ریڈر، مواصلاتی آلات اور دیگر ڈیجیٹل حل شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی معذوری رکھنے والے افراد، عمر رسیدہ لوگوں اور بعض صحت کی ضروریات رکھنے والے افراد کو تعلیم، روزگار، صحت کی سہولت اور سماجی زندگی میں زیادہ آزادانہ شرکت کے قابل بنانے میں کردار ادا کرتی ہے۔
قرارداد معاون ٹیکنالوجی تک رسائی کو تعلیم، روزگار، صحت، سماجی تحفظ اور معاشرتی شمولیت جیسے وسیع ترقیاتی اہداف سے جوڑتی ہے۔ اس میں وسائل اور تکنیکی صلاحیت کی کمی کا سامنا کرنے والے ملکوں کے لیے بین الاقوامی تعاون، مالی معاونت اور تکنیکی مدد بڑھانے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی ہے۔
قرارداد میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ جنگ، قدرتی آفات اور دیگر ہنگامی حالات میں معاون ٹیکنالوجی کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔ رکن ممالک کو انسانی ہمدردی کی تیاری اور ردعمل کے نظام میں ایسی ضروریات شامل کرنے کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے تاکہ بحران کے دوران معذوری رکھنے والے یا معاون آلات پر انحصار کرنے والے افراد نظرانداز نہ ہوں۔
پاکستانی مشن کے مطابق قرارداد کا مسودہ اور مذاکرات قونصلر سائمہ سلیم نے انجام دیے، جو پاکستان کی پہلی بصارت سے محروم کیریئر سفارت کار ہیں اور خود معاون ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہیں۔ پاکستان نے اس سے پہلے 2018 میں عالمی ادارۂ صحت کی اسمبلی میں بھی معاون ٹیکنالوجی تک رسائی بہتر بنانے کی قرارداد کے لیے کردار ادا کیا تھا۔ نئی جنرل اسمبلی قرارداد قانونی طور پر خودکار نفاذ کا متبادل نہیں، لیکن عالمی پالیسی، تعاون اور وسائل کی سمت متعین کرنے کے لیے ایک متفقہ سیاسی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔




