اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیپال میں حالیہ تباہ کن فلیش فلڈز اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد پاکستان کی جانب سے ہنگامی امدادی سامان بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم نے اسلام آباد میں نیپال کے سفارتخانے کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے قدرتی آفت میں جان سے جانے والے افراد کی یاد میں کھولی گئی تعزیتی کتاب پر دستخط کیے۔
سرکاری بیان کے مطابق نیپال کی سفیر ریٹا دھیتال نے وزیراعظم کا استقبال کیا۔ شہباز شریف کے ہمراہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی، سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ اور دیگر سینئر حکام بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے نیپال کی حکومت، عوام اور متاثرہ خاندانوں سے پاکستان کی جانب سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے سفیر کو بتایا کہ پاکستان اسی ہفتے نیپال کے لیے ہنگامی امدادی سامان روانہ کرے گا تاکہ وہاں جاری ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں مدد دی جا سکے۔ سرکاری اعلامیے میں امداد بھیجنے کے فیصلے کی تصدیق کی گئی، تاہم اس بیان میں سامان کی مکمل مقدار، مالی مالیت یا تمام اشیا کی تفصیلی فہرست فراہم نہیں کی گئی۔ اس لیے امدادی پیکج کی نوعیت سے متعلق صرف انہی معلومات کو حتمی سمجھا جا سکتا ہے جو متعلقہ ادارے باضابطہ طور پر جاری کریں گے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں نیپال کے ساتھ مکمل یکجہتی رکھتا ہے۔ انہوں نے اس سے قبل نیپالی وزیراعظم بالیندر شاہ سے ٹیلی فون پر بھی ہمدردی اور تعاون کے جذبات کا اظہار کیا تھا۔ سفارتخانے کے دورے کے دوران وزیراعظم نے دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ضرورت کے وقت نیپال کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
نیپالی سفیر نے پاکستانی وزیراعظم کی آمد اور حمایت پر شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ تعاون کی موجودہ صورت حال سے بھی آگاہ کیا۔ قدرتی آفات کے بعد فوری بین الاقوامی امداد عام طور پر ریسکیو، عارضی رہائش، طبی ضرورتوں اور بنیادی اشیا کی فراہمی میں معاون ہو سکتی ہے، لیکن پاکستان کے اس مخصوص امدادی کھیپ کی حتمی تفصیلات روانگی کے وقت واضح ہونے کی توقع ہے۔
موجودہ اعلان انسانی امداد سے متعلق ایک سرکاری وعدہ ہے۔ اس خبر میں نیپال میں نقصانات کے ایسے اعداد شامل نہیں کیے گئے جو اس سرکاری بیان میں واضح طور پر فراہم نہیں ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے امداد کی عملی روانگی اور اس کی وصولی سے متعلق آئندہ سرکاری اطلاعات اس فیصلے کے اگلے مرحلے کی تصدیق کریں گی۔




