پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے مکہ معاہدے کے تحت سہ فریقی دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے اور اتحاد کے لیے مستقل سیکریٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ 31 اگست کو استنبول میں مکہ معاہدے کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیا گیا، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور اعلیٰ عسکری حکام شریک ہوئے۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق اتحاد کے امور کی معاونت کے لیے سیکریٹریٹ سعودی عرب میں قائم کیا جائے گا اور اس کی سربراہی سیکریٹری جنرل کرے گا۔ ابتدائی تین سال کے لیے سیکریٹری جنرل پاکستان سے مقرر ہوگا۔ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اجلاس کے بعد بتایا کہ سہ فریقی انتظام کا نام ’’مکہ دفاعی اتحاد‘‘ ہوگا اور ادارہ جاتی ڈھانچے کے قیام کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سیکریٹریٹ ریاض میں ہوگا اور پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کسی ملک کے خلاف نہیں بلکہ علاقائی سلامتی اور استحکام کے لیے تعاون کا فریم ورک ہے۔
پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا کہ تینوں ملک مشترکہ دفاعی صلاحیت، مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی، دفاعی صنعت میں تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری و پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات کریں گے۔ بیان میں کشیدگی میں کمی، تحمل اور بحرانوں کے پرامن حل کی کوششوں کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا۔
یہ پیش رفت 7 اگست کو طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے تحت رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو سب کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔ 31 اگست کا استنبول اجلاس اس معاہدے کے عملی اور ادارہ جاتی نفاذ کی سمت پہلا اعلیٰ سطحی قدم ہے۔
دستیاب سرکاری اور معتبر صحافتی معلومات میں سیکریٹری جنرل کے لیے کسی فرد کے نام کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے فی الحال خبر کی تصدیق اتنی ہی حد تک ہے کہ عہدہ ابتدائی تین سال پاکستان کے پاس ہوگا۔ اتحاد کے آئندہ طریقۂ کار، ممکنہ توسیع اور مشترکہ سرگرمیوں کی مزید تفصیلات متعلقہ حکومتوں کے آئندہ فیصلوں سے واضح ہوں گی۔




