اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ یمن کے حوثی گروپ کے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے تناظر میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سہ فریقی معاہدے میں کسی ایک رکن کے خلاف جارحیت کو تینوں کے خلاف جارحیت تصور کرنے کا اصول شامل ہے اور پاکستان اس کی طے شدہ شرائط کا پابند ہے۔
خواجہ آصف نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یمن میں جاری تنازع سعودی سرزمین تک پھیلتا ہے تو معاہدے کے اطلاق کے بارے میں ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ ڈان اور عرب نیوز پاکستان نے بھی ان کے بیان کی رپورٹنگ کی ہے۔ یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا جب حوثی ڈرون اور میزائل حملوں نے سعودی شہری اور توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
وزیر دفاع کا بیان معاہدے کے ممکنہ اطلاق سے متعلق سیاسی اور دفاعی مؤقف ہے؛ اس خبر کے دستیاب مستند ذرائع میں پاکستان کی جانب سے یمن کے اندر کسی فوجی کارروائی کے باضابطہ حکم یا آغاز کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اس لیے کسی ممکنہ آپریشن کو طے شدہ نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کی عملی ذمہ داریوں کی نوعیت معاہدے کی شرائط اور حکومت کے آئندہ فیصلوں کے مطابق متعین ہوگی۔
تین ملکی دفاعی معاہدہ اگست 2026 میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ اس کا مقصد مشترکہ دفاع اور مزاحمتی صلاحیت کو مضبوط کرنا بتایا گیا۔ حالیہ حوثی حملوں نے اس معاہدے کے عملی دائرہ کار کو پہلی بار نمایاں علاقائی بحث کا موضوع بنا دیا ہے، خصوصاً اس لیے کہ خلیج میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بھی بیک وقت بڑھ رہی ہے۔
پاکستانی قیادت نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور خطے میں مزید پھیلاؤ سے گریز کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ خواجہ آصف نے بھی بین الاقوامی دباؤ اور سفارتی کوششوں کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امید ظاہر کی۔ موجودہ مرحلے پر تصدیق شدہ پیش رفت وزیر دفاع کا معاہدے کی ذمہ داریوں سے متعلق بیان ہے، نہ کہ کسی نئی پاکستانی فوجی تعیناتی یا حملے کا اعلان۔




