ڈھاکا: بنگلہ دیش خسرے کی اپنی بدترین ریکارڈ شدہ وبا کا سامنا کر رہا ہے، جہاں مارچ 2026 سے 166 ہزار سے زیادہ مشتبہ کیسز اور خسرے سے منسلک 999 مشتبہ و مصدقہ اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ رائٹرز کے مطابق امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کی فہرست میں بنگلہ دیش اس وقت دنیا کی سب سے بڑی خسرہ وبا کا سامنا کرنے والا ملک ہے۔

بنگلہ دیشی وزارت صحت کے اعداد کے مطابق 166 ہزار سے زیادہ مشتبہ کیسز میں 19,835 انفیکشن لیبارٹری سے تصدیق شدہ ہیں۔ 999 رپورٹ شدہ متعلقہ اموات میں 100 کو خسرے سے ہونے والی مصدقہ اموات قرار دیا گیا ہے، جبکہ باقی مشتبہ زمرے میں ہیں۔ اس فرق کو برقرار رکھنا ضروری ہے کیونکہ تمام اموات کی وجہ خسرہ ہونا لیبارٹری سطح پر ثابت نہیں ہوئی۔ ایک لاکھ 46 ہزار سے زیادہ مشتبہ مریضوں کو ہسپتال میں داخل کیا جا چکا ہے۔

صحت حکام اور ماہرین نے 2024 اور 2025 میں معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری میں خلل، ویکسین کی فراہمی کے مسائل اور پروگرام کی نگرانی میں کمزوریوں کو موجودہ بحران کے اہم عوامل قرار دیا ہے۔ وزیر صحت سردار محمد سخاوت حسین نے پارلیمان کو بتایا کہ خریداری کے طریقہ کار میں تبدیلی سے ویکسین کی قلت پیدا ہوئی، جبکہ 2024 میں ایک ویکسینیشن پروگرام مؤخر اور اگلے سال ملک گیر خسرہ-روبیلا مہم منسوخ ہونے سے بچوں کی ایک بڑی تعداد غیر محفوظ رہ گئی۔

عالمی ادارہ صحت، یونیسف اور دیگر اداروں نے بھی حفاظتی ٹیکہ کاری کے شیڈول میں تعطل کی نشاندہی کی ہے۔ وبا کے ابتدائی مرحلے میں پانچ سال سے کم عمر بچے کیسز کا تقریباً 80 فیصد تھے۔ نو ماہ سے کم عمر شیر خوار بچے خاص طور پر خطرے میں ہیں کیونکہ وہ معمول کی خسرہ ویکسین کی عمر تک پہنچنے سے پہلے وائرس کا شکار ہو سکتے ہیں۔

حکومت نے اپریل میں ہنگامی خسرہ-روبیلا ویکسینیشن مہم شروع کی تھی، جس کا ابتدائی ہدف تقریباً 18 ملین بچے تھے۔ وزارت صحت کے مطابق اب تک 19.7 ملین سے زیادہ بچوں کو ویکسین دی جا چکی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ وبا روکنے کے لیے معمول کی ویکسینیشن، چھوٹ جانے والے بچوں کی دوبارہ رسائی اور مسلسل نگرانی مضبوط کرنا ضروری ہے۔

خسرے کے ساتھ ڈینگی کے بڑھتے کیسز نے ہسپتالوں پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایک سرکاری ہسپتال، جس کی گنجائش 1,350 مریضوں کی ہے، دو ہزار سے زیادہ مریض سنبھال رہا تھا اور بعض خسرہ مریضوں کو فرش پر علاج دینا پڑ رہا تھا۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ بحران صرف انفیکشن کی تعداد تک محدود نہیں بلکہ طبی گنجائش، ادویات و سامان اور معمول کی صحت خدمات پر بھی اثر ڈال رہا ہے۔

خسرہ انتہائی متعدی بیماری ہے مگر دو خوراکوں پر مشتمل ویکسین سے بڑی حد تک روکی جا سکتی ہے۔ موجودہ اعداد وبا کی جاری صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں اور سرکاری جانچ کے ساتھ اموات اور کیسز کی درجہ بندی میں مزید تبدیلی ممکن ہے۔