ڈلاس: امریکا کی ریپبلکن پارٹی نے بدھ کو ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں ایک غیر معمولی دو روزہ وسط مدتی کنونشن شروع کیا، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پارٹی کی انتخابی مہم کے مرکزی چہرے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ پہلا ریپبلکن قومی کنونشن ہے جو خاص طور پر وسط مدتی انتخابات کے لیے منعقد کیا گیا ہے، حالانکہ اس میں کسی صدارتی امیدوار کی نامزدگی یا روایتی قومی کنونشن جیسی رسمی پارٹی کارروائی نہیں ہونی۔

ریپبلکن حکمت عملی کا مقصد 3 نومبر کے انتخابات میں ان ووٹرز کو متحرک کرنا ہے جو ذاتی طور پر ٹرمپ کے ساتھ مضبوط سیاسی وابستگی رکھتے ہیں۔ صدر نے حالیہ جلسے میں اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ ایسے ووٹ ڈالیں جیسے ان کا نام خود بیلٹ پر موجود ہو۔ ٹرمپ ڈلاس کے امریکن ایئرلائنز سینٹر میں کنونشن کی دونوں راتوں میں خطاب کرنے والے ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس، کابینہ کے ارکان، کانگریس کی قیادت اور اہم انتخابی حلقوں کے امیدوار بھی پروگرام میں شامل ہیں۔

یہ کنونشن ایسے وقت ہو رہا ہے جب ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان میں اپنی اکثریت بچانے اور سینیٹ میں سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اے ایف پی نے انتخابی پیش گوئی کرنے والے ادارے ڈسیژن ڈیسک ایچ کیو کے اندازوں کا حوالہ دیا ہے، جن میں ڈیموکریٹس کو ایوان میں برتری اور سینیٹ میں بھی معمولی اکثریت ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ یہ اعداد انتخابی پیش گوئیاں ہیں، حقیقی نتائج نہیں، اور ووٹنگ تک سیاسی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں۔

پارٹی کنونشن میں ٹیکس میں کمی، امیگریشن نفاذ، امریکی مینوفیکچرنگ اور نسخے کی ادویات کی قیمتوں جیسے موضوعات کو نمایاں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دوسری طرف ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کے حالیہ کم اعداد اور مہنگائی، پٹرول کی قیمتوں اور ایران کے ساتھ جاری جنگ جیسے مسائل ریپبلکن مہم کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں۔

ریپبلکنز کے لیے بنیادی سیاسی سوال یہ ہے کہ ٹرمپ اپنے انتہائی وفادار حامیوں کو بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کر سکتے ہیں یا نہیں، اور ساتھ ہی ایسے آزاد ووٹرز کو مزید دور کیے بغیر پارٹی کے کانگریسی امیدواروں کی مدد کر سکتے ہیں جو موجودہ حکومت سے ناخوش ہیں۔ وسط مدتی انتخابات میں صدر کا نام براہ راست بیلٹ پر نہیں ہوگا، اس لیے صدارتی انتخابات کے مقابلے میں ووٹر ٹرن آؤٹ اور مقامی امیدواروں کی قوت مختلف کردار ادا کر سکتی ہے۔

ڈلاس کنونشن کا حتمی اثر نومبر کی ووٹنگ اور بعد کے نتائج سے ہی واضح ہوگا۔ فی الحال یہ اجتماع ریپبلکن پارٹی کی اس حکمت عملی کی واضح علامت ہے کہ وہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات کو بڑی حد تک ٹرمپ کی صدارت، پالیسی ایجنڈے اور سیاسی برانڈ کے حق یا مخالفت میں ریفرنڈم کی شکل دینا چاہتی ہے۔