دبئی/واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں 9 ستمبر کو سمندری محاذ پر کشیدگی مزید بڑھ گئی، جب دونوں جانب سے تیل بردار اور دیگر بحری جہازوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں رپورٹ ہوئیں۔ رائٹرز کے مطابق ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 جہازوں کو نشانہ بنایا، یہ کارروائی امریکا کی جانب سے پانچ ایرانی آئل ٹینکر تباہ کیے جانے کے بعد کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ حملے چھ ماہ سے جاری تنازع کے دوران تجارتی جہاز رانی کے خلاف سب سے بڑی باہمی کارروائیوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ایک ٹینکر، ہرکیولس اسٹار، سے متعلق واقعے میں کم از کم ایک سمندری کارکن کی ہلاکت اور ایک کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی گئی۔ خلیج اور خلیج عمان کے مختلف حصوں میں دیگر تجارتی جہازوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایران نے اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے کی جانب بیلسٹک میزائل بھی داغے۔ امریکی حکام کے مطابق بیشتر میزائل روک لیے گئے اور امریکی فوجیوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ دوسری طرف امریکا نے ایرانی ٹینکروں کے خلاف اپنی کارروائی کو امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی سابق کوششوں کا جواب قرار دیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے مزید کارروائیوں کی دھمکی دی اور سمندری علاقوں میں پابندیوں کا دائرہ بڑھانے کی بات کی۔ جنگی دعووں اور ہر حملے کی ذمہ داری سے متعلق بعض تفصیلات فریقین کے سرکاری بیانات پر مبنی ہیں اور میدان جنگ کی صورتحال میں آزادانہ تصدیق محدود ہو سکتی ہے۔ تاہم رائٹرز نے متعدد امریکی، ایرانی اور بحری ذرائع کی بنیاد پر تازہ واقعات رپورٹ کیے ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کا ایک اہم راستہ ہے۔ کشیدگی بڑھنے کے ساتھ اس راستے سے تیل کی نقل و حرکت دوبارہ شدید متاثر ہوئی اور عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا، جس سے توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں کے لیے مہنگائی اور سپلائی کے نئے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
تازہ حملے اس خطرے کو بڑھاتے ہیں کہ جنگ کا بحری پہلو عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی پر زیادہ وسیع اثر ڈال سکتا ہے۔ فی الحال کسی جنگ بندی یا فوری مذاکراتی پیش رفت کی تصدیق نہیں ہوئی اور خطے میں تجارتی جہاز رانی کے لیے خطرات برقرار ہیں۔




