قاہرہ/واشنگٹن/دبئی: ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں پر جوابی حملوں کا سلسلہ بدھ کو نمایاں طور پر تیز ہو گیا، جس سے آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف عالمی جہاز رانی اور توانائی کی رسد کے خطرات بڑھ گئے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے کہا کہ اس نے ہرمز کے قریب 10 جہازوں کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی فوج نے پانچ ایرانی آئل ٹینکروں کو تباہ کرنے کی اطلاع دی۔ دونوں فریقوں کے جنگی دعووں کی تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر ممکن نہیں تھی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس کی کارروائی ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہاز کو دو دن میں دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں کی گئی۔ امریکا کے مطابق اس کے اہلکار محفوظ رہے۔ دوسری طرف ایران نے کہا کہ اس نے امریکی جہازوں اور ایسے آئل ٹینکروں پر حملے کیے جو اس علاقے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے تہران نے محدود قرار دے رکھا ہے۔

برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ادارے یو کے ایم ٹی او نے شمالی خلیج اور خلیج عمان میں متعدد تجارتی جہازوں کو نقصان پہنچنے کی رپورٹس موصول ہونے کی تصدیق کی، تاہم اس مرحلے پر جانی نقصان یا ماحولیاتی اثرات کی مکمل تصویر سامنے نہیں آئی تھی۔ عراق کے دو بندرگاہی حکام کے مطابق تقریباً 20 لاکھ بیرل فیول آئل لے جانے والے ٹینکر نیو اینڈروس کو عراقی پانیوں میں ڈرون حملے کے بعد آگ لگی، جبکہ عملے کے 22 افراد میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

ایران نے مشرقی اردن میں الازرق کے قریب امریکی افواج کے زیر استعمال اڈے پر بیلسٹک میزائل داغنے کا دعویٰ بھی کیا۔ اردن کے مطابق اس کے فضائی دفاع نے 20 میں سے 18 میزائل روک لیے اور باقی دو غیر آباد علاقوں میں گرے، جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ایک امریکی اہلکار نے بھی کہا کہ امریکی فوجی محفوظ ہیں۔ اس معاملے میں ایرانی دعوے اور اردنی و امریکی ردعمل کو الگ الگ فریقوں کے سرکاری مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ تھی۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ کشیدگی نے جہازوں کی آمدورفت شدید محدود کر دی ہے اور بحری نقل و حمل کی حقیقی سطح کا اندازہ بھی مشکل ہو گیا ہے۔ اسی کشیدگی کے دوران بین الاقوامی برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا، جو توانائی منڈی میں رسد کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔

خطے میں سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان لڑائی میں اضافہ بھی توانائی تنصیبات اور بحری راستوں کے لیے ایک الگ خطرہ بن رہا ہے۔ موجودہ صورتحال میں کسی ایک فریق کے جنگی دعوے کو مکمل طور پر حتمی سمجھنے کے بجائے بحری سکیورٹی اداروں، متعلقہ حکومتوں اور آزاد نگرانی کے مزید شواہد اہم رہیں گے۔