پیرس: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے 9 ستمبر کو جاری نئی عالمی جائزہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ گیمنگ اور جوئے کی تیزی سے ڈیجیٹل، سرحد پار اور باہم مربوط ہوتی خدمات مجرموں کے لیے رقوم منتقل کرنے اور مالی نظام کے غلط استعمال کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں۔ ادارے نے حکومتوں، نگران اداروں اور نجی شعبے کے لیے ایسے خطرے کے اشاریے بھی جاری کیے ہیں جن کی مدد سے مشتبہ سرگرمی کی شناخت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق خطرات صرف روایتی کیسینو تک محدود نہیں رہے بلکہ آن لائن گیمنگ اور جوئے کے پلیٹ فارم، ادائیگی کے مختلف ذرائع، غیر قانونی آپریٹرز اور ان کے وسیع مالی نظام سے روابط بھی نگرانی کا اہم موضوع بن چکے ہیں۔ رپورٹ میں منی لانڈرنگ کے ساتھ دہشت گردی کی مالی معاونت اور پھیلاؤ سے متعلق مالی معاونت کے خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

ادارے نے جن طریقوں کی نشاندہی کی ان میں ایسے اکاؤنٹس کے ذریعے رقم منتقل کرنا شامل ہے جہاں بظاہر جوئے کی سرگرمی موجود ہو مگر حقیقی طور پر کھیل یا شرط لگانے کا مقصد نہ ہو۔ اسی طرح متعدد چھوٹی ادائیگیوں یا لین دین کے ذریعے نگرانی کی حد سے بچنے کی کوشش، جسے عمومی طور پر 'سمرفنگ' کہا جاتا ہے، بھی خطرے کی علامت قرار دی گئی۔ غیر معمولی طور پر بڑی یا باہم مربوط شرطیں، خصوصاً ایسے مقابلوں پر جن کے بارے میں پہلے ہی میچ یا مقابلہ فکسنگ کا شبہ ہو، مزید جانچ کی وجہ بن سکتی ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر گیمنگ اور جوئے کی مارکیٹ کے حجم میں اضافے، آن لائن پلیٹ فارمز کے پھیلاؤ اور ایسے ادائیگی طریقوں نے خطرات بڑھائے ہیں جو سرحدوں کے پار تیز رفتار لین دین ممکن بناتے ہیں اور بعض صورتوں میں صارف یا اصل فائدہ اٹھانے والے کی شناخت مشکل بنا سکتے ہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ خطرے کے اشاریے بذاتِ خود جرم کا ثبوت نہیں ہوتے؛ ان کا مقصد مالیاتی اداروں اور متعلقہ کاروباروں کو ایسے نمونوں کی شناخت میں مدد دینا ہے جن پر مزید جانچ ضروری ہو سکتی ہے۔

نئی دستاویز ایف اے ٹی ایف کی وسیع تر انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ رکن اور متعلقہ ممالک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے مقامی خطرات، قانونی ڈھانچے اور مارکیٹ کی نوعیت کے مطابق ان نتائج کو استعمال کریں۔ پاکستان سمیت وہ ممالک جو ایف اے ٹی ایف معیارات کے تحت اپنے مالیاتی نظام کی نگرانی کرتے ہیں، اس رپورٹ سے آن لائن پلیٹ فارمز، ادائیگی چینلز اور غیر قانونی آپریٹرز سے متعلق رسک اسیسمنٹ میں رہنمائی لے سکتے ہیں، تاہم رپورٹ میں کسی ایک ملک کے خلاف مخصوص کارروائی یا درجہ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا۔