اسلام آباد: پاکستان نے برطانیہ کی قیادت میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف تجارتی پابندیوں کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی آبادکاری بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے اور ایک قابلِ عمل دو ریاستی حل کی کوششوں کو کمزور کرتی ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان ایسے اقدامات کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد غیر قانونی بستیوں کی توسیع روکنا اور فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کی عملداری مضبوط کرنا ہو۔ اسلام آباد نے ایک مرتبہ پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ فلسطینی تنازع کا پائیدار حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کے مطابق ہونا چاہیے۔

برطانیہ کی جانب سے تازہ اقدامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کی سرگرمیوں پر بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ برطانوی حکومت نے بعض تجارتی اور اقتصادی روابط کو نشانہ بنانے والے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے ان پابندیوں کو سیاسی دباؤ کے ایک ایسے ذریعے کے طور پر دیکھا ہے جو بستیوں کی مزید توسیع کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے۔

اسرائیل مغربی کنارے پر 1967 سے قابض ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک اور بین الاقوامی ادارے وہاں قائم اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ اسرائیلی حکومت اس قانونی تشریح سے اختلاف کرتی رہی ہے۔ بستیوں کا مسئلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حتمی حیثیت کے بنیادی تنازعات میں شامل ہے اور زمین کے جغرافیائی تسلسل پر اس کے اثرات دو ریاستی حل کے امکانات سے براہ راست جڑے ہوئے ہیں۔

پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کو اپنی مستقل خارجہ پالیسی کا حصہ قرار دیتا ہے۔ دفتر خارجہ کے تازہ ردعمل میں برطانوی اقدام کی حمایت اسی پالیسی کے تسلسل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کی روک تھام اور ایک منصفانہ سیاسی حل کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے۔