اسلام آباد: پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی اشیا پر پابندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفتر خارجہ نے 9 ستمبر کو جاری بیان میں کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی مسلسل توسیع بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق آبادکاری کی یہ سرگرمیاں دو ریاستی حل اور خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ پاکستان نے برطانیہ کے اقدام کو اس تناظر میں اہم قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اقدامات کے خلاف واضح اور غیر مبہم پیغام جائے گا۔

بیان میں پاکستان نے کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت متعدد دیگر ملکوں کی جانب سے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف اقدامات پر غور یا ان کی حمایت کے اعلانات کا بھی خیرمقدم کیا۔ دفتر خارجہ نے ان کوششوں کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور فلسطینی علاقوں کی حیثیت سے متعلق عالمی اصولوں کے تناظر میں دیکھا۔

پاکستان نے اپنے دیرینہ مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا۔ اسلام آباد کا سرکاری مؤقف ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت ہے جو 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔

برطانیہ اور دیگر یورپی و مغربی ممالک کے اقدامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری اور دو ریاستی حل کے مستقبل پر سفارتی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے بیان میں کسی نئے ملکی پابندی پیکیج کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ بنیادی طور پر برطانوی اور دیگر ممالک کے اقدامات کی سفارتی حمایت کی گئی ہے۔ اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ آبادکاری کا معاملہ فلسطین اسرائیل تنازع کے سب سے حساس قانونی اور سیاسی نکات میں شمار ہوتا ہے اور اس پر اقوام متحدہ کے فورمز پر طویل عرصے سے بحث جاری ہے۔