دبئی/واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں بحری محاذ پر کشیدگی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے تیل بردار جہازوں اور بحری اہداف کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ روئٹرز کے مطابق تازہ حملے چھ ماہ سے جاری تنازع میں جہاز رانی کے خلاف سب سے بڑی باہمی کارروائیوں میں شمار کیے جا رہے ہیں، جبکہ توانائی کی عالمی منڈی پر فوری اثر پڑا ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے 10 جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائی کو امریکا کی جانب سے پانچ ایرانی آئل ٹینکروں کو ڈبونے کے ردعمل سے جوڑا۔ مختلف بحری واقعات میں ڈرون حملوں، آگ لگنے اور بندرگاہی و تجارتی جہازوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ کم از کم ایک سمندری کارکن کی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے۔
ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈے کی جانب بیلسٹک میزائل بھی داغے، تاہم رپورٹ کے مطابق دفاعی نظام نے زیادہ تر میزائل روک لیے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے مزید جوابی اقدامات کی تنبیہ کی اور بحری علاقے میں پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی بات کی۔ امریکا نے بھی ایرانی خطرات کے جواب میں تیل بردار جہازوں کو ہدف بنانے کی حکمت عملی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی اور برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد سے اوپر چلا گیا۔ ہرمز عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تجارت کے اہم ترین راستوں میں شامل ہے، اس لیے وہاں جہاز رانی میں رکاوٹ عالمی قیمتوں، انشورنس لاگت اور سپلائی چین پر تیزی سے اثر ڈال سکتی ہے۔
اقوام متحدہ نے فریقین سے تحمل کا مطالبہ کیا ہے۔ خطے میں صورتحال مزید پیچیدہ اس لیے بھی ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان حملوں میں شدت آئی ہے اور سعودی توانائی تنصیبات بھی نشانہ بنی ہیں۔ حملوں کے دعووں اور فوجی نقصانات سے متعلق متعدد تفصیلات متحارب فریقوں کے بیانات پر مبنی ہیں اور جنگی حالات میں ان کی آزادانہ تصدیق محدود ہو سکتی ہے۔




