اسلام آباد/لندن: پاکستان سمیت آٹھ عرب اور مسلم ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے اشیا کی درآمد پر برطانیہ کی پابندی کا خیرمقدم کیا ہے۔ مشترکہ ردعمل میں اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھی جانے والی آبادکاری کے خلاف عملی قدم قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی گئی کہ دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے اقدامات کریں گے۔
برطانیہ نے یہ تجارتی اقدام منگل کو متعارف کرایا، جبکہ دستیاب رپورٹنگ کے مطابق کینیڈا اور فرانس نے بھی اسرائیلی بستیوں سے متعلق اقدامات کیے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے طرز عمل اور اسرائیلی حکومت کے ردعمل پر سخت تنقید کی۔
پاکستان کے ساتھ مشترکہ موقف اختیار کرنے والے ممالک نے زور دیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی سرگرمیوں میں ملوث تنظیموں اور افراد کے احتساب کے لیے بین الاقوامی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ بیان میں برطانوی فیصلے کو اس وسیع تر سفارتی کوشش کے تناظر میں دیکھا گیا جس کا مقصد اسرائیلی بستیوں کی توسیع اور ان سے جڑی معاشی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھانا ہے۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کا معاملہ اسرائیل فلسطین تنازع کے سب سے حساس قانونی اور سیاسی مسائل میں شامل ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے بڑے حصے کا موقف ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون سے مطابقت نہیں رکھتیں، جبکہ اسرائیل اس معاملے پر مختلف قانونی اور تاریخی دلائل پیش کرتا رہا ہے۔
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور مسلسل فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا آیا ہے۔ تازہ مشترکہ بیان میں برطانیہ کے تجارتی فیصلے کی تائید پاکستان کی اسی سفارتی پالیسی کے تسلسل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ پابندی کے عملی تجارتی اثرات کا انحصار اس کے نفاذ، مصنوعات کی شناخت اور برطانوی کسٹمز و تجارتی ضوابط پر ہوگا۔




