اسلام آباد/ریاض: مکہ دفاعی معاہدے سے وابستہ رکن ممالک نے خطے میں بڑھتے سلامتی خطرات کے دوران فوری ردعمل کی فوجی فورس کی تعیناتی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کے مطابق اس اقدام کا مقصد سعودی عرب کی دفاعی تیاری، رکن ممالک کے درمیان فوجی انضمام اور مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی اجتماعی صلاحیت بڑھانا بتایا گیا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی اس دفاعی انتظام میں شامل ہیں اور حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں سیاسی اور عسکری مشاورت کے بعد اجتماعی دفاع سے متعلق سفارشات پر عمل درآمد کی منظوری دی گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن میں لڑائی شدت اختیار کر رہی ہے اور بحیرہ احمر و باب المندب کے اطراف فوجی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے موخا بندرگاہ اور باب المندب کے قریب بعض اہم مقامات پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حوثی فورسز کے ساتھ جھڑپیں دوسرے علاقوں میں جاری ہیں۔ ان میدان جنگ کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہر مقام پر فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی، اس لیے انہیں متعلقہ فریقوں کے بیانات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
جیو نیوز کے مطابق اتحاد نے ریٹائرڈ پاکستانی لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کے لیے اپنا پہلا سیکرٹری جنرل بھی مقرر کیا ہے۔ اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سلامتی خطرات اور اجتماعی دفاعی وعدوں کے نفاذ پر غور کیا گیا۔ رکن ممالک کی جانب سے ضروری فوجی دستوں کی فراہمی اور مشترکہ انتظامات پر پیش رفت کا اعلان کیا گیا، تاہم تعیناتی کے مکمل حجم، مقامات اور عملی قواعد کی تمام تفصیلات عوامی طور پر سامنے نہیں آئیں۔
یہ اقدام خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم دفاعی پیش رفت ہے، لیکن اسے کسی مخصوص جنگی کارروائی کے آغاز کے برابر قرار نہیں دیا گیا۔ دستیاب سرکاری و معتبر میڈیا معلومات کے مطابق بنیادی مقصد دفاعی تیاری اور مشترکہ ردعمل کی صلاحیت کو فعال بنانا ہے۔ مزید تفصیلات رکن ممالک کے آئندہ سرکاری اعلانات اور عملی تعیناتی کے مراحل کے ساتھ واضح ہونے کی توقع ہے۔
