واشنگٹن: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں نئے مستقل ارکان شامل کرنے کی مخالفت دہراتے ہوئے کہا ہے کہ کونسل کو زیادہ نمائندہ اور جواب دہ بنانے کے لیے منتخب اور غیر مستقل نشستوں کی تعداد بڑھائی جانی چاہیے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے ڈان سے گفتگو میں پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مستقل رکنیت کے نئے مراکز قائم کرنے سے مساوی نمائندگی اور احتساب کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

سلامتی کونسل اس وقت 15 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں پانچ مستقل اور دس منتخب غیر مستقل ارکان شامل ہیں۔ اصلاحات پر کئی برس سے مذاکرات جاری ہیں اور مختلف ممالک و گروپ مستقل اور غیر مستقل نشستوں کی ساخت، علاقائی نمائندگی اور ویٹو کے معاملے پر مختلف تجاویز رکھتے ہیں۔ پاکستان اس بحث میں ایسے ماڈل کی حمایت کرتا رہا ہے جس میں زیادہ ممالک کو باری باری منتخب رکن بننے کا موقع ملے، بجائے اس کے کہ چند مزید ریاستوں کو مستقل حیثیت دی جائے۔

عاصم افتخار احمد، جو پاکستان کے نئے سیکرٹری خارجہ کا عہدہ سنبھالنے والے ہیں، نے تنازعات کے پرامن حل میں پاکستان کے کردار پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیا اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے تحت تنازعات کے حل کو اہم قرار دیا۔

سلامتی کونسل کی اصلاح ایک طویل اور سیاسی طور پر پیچیدہ عمل ہے، کیونکہ کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں وسیع اتفاق رائے اور منشور میں ترمیم کے تقاضے پورے کرنا ہوتے ہیں۔ پاکستان کا بیان کسی فوری ادارہ جاتی تبدیلی کا اعلان نہیں بلکہ جاری بین الحکومتی مذاکرات میں اس کی پالیسی پوزیشن کی توثیق ہے۔ اسلام آباد کا استدلال ہے کہ منتخب نشستوں میں اضافہ کونسل کی نمائندگی بڑھا سکتا ہے اور ارکان کو جنرل اسمبلی کے سامنے زیادہ جواب دہ رکھ سکتا ہے۔