ملائیشیا نے سرکاری ملازمین کے لیے نیویگیشن اور میپنگ ایپ Waze کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ رائٹرز کی 21 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا کہ حکومت شہریوں کے ڈیٹا اور شناخت کی سیکیورٹی پر سمجھوتا نہیں کر سکتی۔ یہ فیصلہ Waze کی اسرائیلی ابتدا اور ڈیٹا سیکیورٹی سے متعلق سرکاری خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
Waze ایک مقبول نیویگیشن ایپ ہے جو ڈرائیوروں کو ٹریفک، راستوں اور سڑک کی صورتحال سے متعلق حقیقی وقت کی معلومات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کو 2013 میں گوگل نے خریدا تھا اور اب یہ Alphabet کے تحت کام کرنے والی خدمات میں شامل ہے۔ ملائیشیا کے فیصلے کا دائرہ سرکاری ملازمین کے استعمال تک بتایا گیا ہے؛ دستیاب رپورٹ میں عام شہریوں کے لیے ملک گیر پابندی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے اس معاملے کو قومی اور ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے جوڑا۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں سرکاری ادارے حساس مقامات، ملازمین کی نقل و حرکت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے جمع ہونے والے لوکیشن ڈیٹا کے ممکنہ سیکیورٹی اثرات پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ تاہم کسی مخصوص ڈیٹا خلاف ورزی یا Waze کی جانب سے ملائیشیا کے سرکاری ڈیٹا کے غلط استعمال کی تصدیق اس اعلان میں نہیں کی گئی۔
ملائیشیا نے غزہ جنگ اور اسرائیل سے متعلق پالیسی معاملات میں سخت مؤقف اختیار کیا ہے، اور حکومتی بیانات میں فلسطینیوں کی حمایت نمایاں رہی ہے۔ Waze پر پابندی کے فیصلے میں بھی ایپ کی اسرائیلی ابتدا کا حوالہ سامنے آیا، لیکن عملی سرکاری جواز ڈیٹا اور شناخت کے تحفظ کے خدشات کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور ریاستی سیکیورٹی کے تعلق پر جاری عالمی بحث کا حصہ ہے۔ سرکاری ملازمین کے لیے استعمال کی پابندی کا نفاذ متعلقہ ملائیشین اداروں کے قواعد کے مطابق ہوگا، جبکہ نجی صارفین، متبادل نیویگیشن خدمات یا مستقبل میں پابندی کے دائرے میں کسی تبدیلی سے متعلق مزید تفصیل الگ سرکاری ہدایات سے واضح ہوگی۔

