ویب پروگرامنگ زبان PHP میں دو سنگین سکیورٹی خامیوں کے انکشاف کے بعد یورپ اور دیگر علاقوں میں متعدد سرکاری اداروں نے اپنی ویب سائٹس احتیاطی طور پر آف لائن کر دیں۔ رائٹرز کے مطابق PHP کے ڈویلپرز نے صارفین کو فوری اپ ڈیٹ کی ہدایت کی اور بدھ کو خامیوں کا حل فراہم کرنے والا نیا ورژن جاری کر دیا۔
سکیورٹی خدشات اس وقت بڑھے جب ماہرین نے ان خامیوں کے ممکنہ عملی استحصال کی اطلاعات دیں۔ نیدرلینڈز اور فن لینڈ کے سرکاری اداروں نے پیچ نصب ہونے تک کئی عوامی ویب سروسز بند کیں۔ فرانس کی وزارت داخلہ نے بھی بعض مقامی انتظامی ویب سائٹس عارضی طور پر آف لائن کیں۔ یہ اقدامات حملے کی تصدیق کے بجائے خطرہ کم کرنے کے احتیاطی طریقے تھے۔
PHP انٹرنیٹ کے بڑے حصے میں استعمال ہوتی ہے اور WordPress، Drupal، Joomla اور Magento سمیت کئی معروف ویب پلیٹ فارمز کے سرور سائیڈ نظام کا حصہ ہے۔ اسی وسیع استعمال کے باعث کسی بنیادی خامی کا اثر لاکھوں ویب سرورز تک پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا کہ صرف ویب ایپلی کیشن کی خودکار اپ ڈیٹ کافی نہیں ہو سکتی اور ہوسٹنگ فراہم کنندہ یا سرور منتظم کو PHP کا متعلقہ ورژن اپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے۔
نیدرلینڈز میں نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر سمیت متعدد اداروں نے ویب سروسز بند کیں، جبکہ فن لینڈ میں سرکاری آئی ٹی فراہم کنندہ نے عوامی نیٹ ورک خدمات احتیاطاً معطل کیں۔ برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان اور یورپی سائبر اداروں نے بھی فوری پیچنگ یا ضرورت پڑنے پر عارضی بندش کی سفارش کی۔
خامیوں کی مکمل تکنیکی تفصیل اور متاثرہ تمام ورژنز سے متعلق معلومات مرحلہ وار سامنے آ رہی ہیں۔ اس لیے ویب سائٹ منتظمین کے لیے درست اقدام PHP کے سرکاری سکیورٹی اعلانات اور اپنے ہوسٹنگ فراہم کنندہ کی ہدایات کے مطابق اپ ڈیٹ کرنا ہے۔ تازہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے اوپن سورس بنیادی سافٹ ویئر میں ایک خامی بیک وقت عالمی ویب انفراسٹرکچر کو متاثر کر سکتی ہے۔

