امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے فیس بک کی مالک کمپنی Meta کے خلاف صارفین کی پرائیویسی سے متعلق مقدمے میں 25 ارب ڈالر کی مالی سزا کا حکم دیا ہے۔ جیو نیوز کی 22 اکتوبر 2026 کی رپورٹ، جس میں رائٹرز کے بیان کا حوالہ دیا گیا، کے مطابق جج فرانسس میتھیو نے فیصلہ دیا کہ کمپنی نے نجی ڈیٹا کے جمع اور شیئر کیے جانے کے بارے میں لاکھوں صارفین کو گمراہ کیا۔
مقدمے کا پس منظر Cambridge Analytica اسکینڈل سے جڑا ہے، جس میں ایک تیسرے فریق کی ایپ کے ذریعے کروڑوں فیس بک صارفین کی معلومات تک رسائی کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق متاثرہ اکاؤنٹس کی تعداد 87 ملین تک بتائی گئی تھی۔ نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل نے 2021 میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کمپنی نے صارفین کو اس بارے میں گمراہ کیا کہ ان کے ڈیٹا تک کون رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
عدالت کے حکم کے مطابق 25 ارب ڈالر کی رقم نیو میکسیکو کے صارف تحفظ قوانین کے تحت عوامی تعلیم کے لیے جائے گی، نہ کہ براہ راست متاثرہ فیس بک صارفین میں تقسیم ہوگی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جج نے قانونی حساب سے اس سے کہیں زیادہ ممکنہ سزا کا تخمینہ لگایا تھا، لیکن حتمی حکم 25 ارب ڈالر پر مقرر کیا گیا۔
Meta نے الزامات سے اختلاف کیا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ وہ صارفین کا ذاتی ڈیٹا فروخت نہیں کرتی اور ریاست یہ ثابت نہیں کر سکی کہ صارفین کو حقیقتاً نقصان پہنچا۔ کمپنی نے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، اس لیے موجودہ عدالتی حکم حتمی قانونی انجام نہیں سمجھا جا سکتا اور اپیل کی کارروائی اس کے نفاذ یا رقم پر اثر ڈال سکتی ہے۔
یہ فیصلہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ڈیٹا پالیسی، صارف رضامندی اور ریاستی صارف تحفظ قوانین کے نفاذ سے متعلق جاری قانونی بحث میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ عدالت کا حکم Meta کے خلاف ایک عدالتی finding ہے، جبکہ کمپنی کے اعتراضات اور اپیل کے حقوق برقرار ہیں؛ آئندہ عدالتی کارروائی ہی طے کرے گی کہ سزا کس شکل میں برقرار رہتی ہے۔
