پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق کمپیوٹر سروسز، سافٹ ویئر، فری لانسنگ اور دیگر ڈیجیٹل خدمات سے حاصل ہونے والی بیرونی آمدن نے ملک کی خدماتی برآمدات میں اپنا اہم کردار برقرار رکھا ہے۔
آئی ٹی شعبہ پاکستان کے لیے ان چند برآمدی شعبوں میں شامل ہے جہاں خام مال کی درآمدی ضرورت روایتی صنعتوں کے مقابلے میں نسبتاً کم اور انسانی مہارت کا حصہ زیادہ ہوتا ہے۔ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ، کلاؤڈ سروسز، گیمنگ، فِن ٹیک اور فری لانس کام سے پاکستانی کمپنیوں اور افراد کو امریکا، یورپ، خلیج اور دیگر منڈیوں سے آمدن حاصل ہوتی ہے۔
برآمدات میں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی پالیسی کے لیے مثبت اشارہ ہے، لیکن شعبے کو انٹرنیٹ کے معیار، بین الاقوامی ادائیگیوں، ہنرمند افرادی قوت کی دستیابی، ٹیکس پالیسی اور کاروباری ضابطوں جیسے مسائل کا بھی سامنا رہتا ہے۔ آئی ٹی کمپنیوں نے طویل عرصے سے پالیسی کے تسلسل اور برآمدی آمدن کے استعمال سے متعلق واضح قواعد کو صنعت کی ترقی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
فری لانسرز اور چھوٹی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کردار بھی بڑھ رہا ہے۔ رسمی بینکاری چینلز کے ذریعے زیادہ ڈیجیٹل آمدن ملک کے زرمبادلہ کے اعداد و شمار میں بہتر طور پر شامل ہو سکتی ہے، جبکہ ادائیگی کے عالمی پلیٹ فارمز تک آسان رسائی برآمدی صلاحیت میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی اور ڈیٹا انجینئرنگ جیسے شعبوں میں مہارت بڑھانا زیادہ قدر والی خدمات کی فروخت کے لیے اہم ہے۔
پہلی سہ ماہی کی کارکردگی پورے مالی سال کے حتمی نتیجے کی ضمانت نہیں دیتی۔ عالمی ٹیکنالوجی اخراجات، کرنسی کی قدر، مقامی انٹرنیٹ انفراسٹرکچر اور کاروباری ماحول آنے والے مہینوں میں برآمدات کی رفتار پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ آئندہ سرکاری اعداد و شمار سے واضح ہو گا کہ یہ اضافہ مسلسل رجحان بنتا ہے یا سہ ماہی اتار چڑھاؤ تک محدود رہتا ہے۔
