اسلام آباد میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں ماہرین نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالیٹکس کو محض نئی ٹیکنالوجی کے طور پر دیکھنے کے بجائے عوامی خدمات، روزگار، معاشی ترقی اور روزمرہ مسائل کے حل کے لیے عملی طور پر استعمال کیا جائے۔ ڈان کے مطابق ایئر یونیورسٹی میں ہونے والی کانفرنس میں پالیسی، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہرین نے جدید ڈیٹا نیٹ ورکس اور ریاستی انفراسٹرکچر کی ڈیجیٹل جدید کاری کی ضرورت پر بات کی۔

وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے سیکریٹری ڈاکٹر محمد طاہر نور نے کہا کہ تکنیکی پیش رفت کا معیار صرف نئی ایپلی کیشنز کی پیچیدگی نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ دیکھا جانا چاہیے کہ وہ شہریوں کی زندگی میں کتنی حقیقی بہتری لاتی ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کو اے آئی اور ڈیٹا کے استعمال سے صحت، تعلیم، انتظامی خدمات اور معاشی منصوبہ بندی میں قابل پیمائش نتائج حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔

کانفرنس کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کے لیے قابل اعتماد ڈیٹا، محفوظ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، تربیت یافتہ افرادی قوت اور واضح پالیسی فریم ورک ضروری ہیں۔ ناقص یا غیر مربوط سرکاری ڈیٹا پر بنائے گئے نظام غلط نتائج دے سکتے ہیں، جبکہ حساس معلومات کے استعمال میں رازداری، سائبر سکیورٹی اور جواب دہی کے اصول بھی اہم ہیں۔

پاکستان میں نوجوان آبادی اور تیزی سے بڑھتے ڈیجیٹل شعبے کو اے آئی کے لیے ایک موقع سمجھا جاتا ہے، لیکن مہارتوں کا فرق، تحقیق میں محدود سرمایہ کاری اور سرکاری اداروں کے درمیان ڈیٹا کی کمزور ہم آہنگی بڑے چیلنج ہیں۔ ماہرین کے مطابق صرف بیرونی ٹیکنالوجی خریدنے کے بجائے مقامی مسائل کے لیے مقامی تحقیق، تربیت اور حل تیار کرنا طویل مدتی فائدے کے لیے ضروری ہے۔

کانفرنس میں سامنے آنے والی تجاویز پالیسی سفارشات ہیں، کوئی نیا قانونی یا مالی حکومتی پروگرام نہیں۔ ان کے عملی اثرات اس وقت سامنے آئیں گے جب متعلقہ وزارتیں، جامعات اور نجی شعبہ مخصوص منصوبوں، بجٹ اور قابل پیمائش اہداف کے ساتھ ان سفارشات کو نافذ کریں گے۔ پھر بھی یہ بحث پاکستان کی ڈیجیٹل پالیسی میں ٹیکنالوجی کے نمائشی استعمال سے عوامی فائدے کی طرف توجہ منتقل کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔