امریکی چپ ساز کمپنی Nvidia نے یورپ میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور صنعتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اپنی شراکت داریاں مزید وسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ نے برلن میں GTC کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کی اعلیٰ معیار کی انجینئرنگ اور میکاٹرونکس کی مہارت اسے فزیکل AI اور روبوٹکس کی نئی لہر میں نمایاں کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ہوانگ نے کہا کہ Nvidia یورپ کے ٹیکنالوجی ماحولیاتی نظام میں تقریباً 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہے اور مینوفیکچررز، تحقیقی اداروں اور اسٹارٹ اپس کے ساتھ تعاون بڑھا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی کمپنیوں کو مصنوعی ذہانت صرف استعمال نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس کی تیاری، تربیت اور صنعتی اطلاق میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
کانفرنس میں جرمنی کی Agile Robots نے اعلان کیا کہ وہ Nvidia ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے اگلے سال ایک ہزار سے دو ہزار تک چھوٹے ہیومنائیڈ روبوٹس تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان روبوٹس کو جامعات اور کارپوریٹ تحقیقی لیبارٹریوں میں استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جو صنعتی اور تحقیقی ماحول میں AI سے چلنے والی مشینوں کے بڑھتے استعمال کی مثال ہے۔
Nvidia نے تیزی سے نصب کیے جا سکنے والے DSX POD ڈیٹا سینٹر ماڈیولز بھی پیش کیے، جنہیں کمپنی کے مطابق نسبتاً مختصر مدت میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑے ماڈلز کی تربیت اور استعمال کے لیے کمپیوٹنگ صلاحیت کی طلب بڑھنے کے ساتھ ڈیٹا سینٹر انفراسٹرکچر Nvidia کی کاروباری حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔
یورپ میں AI سرمایہ کاری کے حوالے سے بحث میں ایک جانب امریکا اور چین سے مسابقت کا دباؤ ہے اور دوسری جانب توانائی، ضابطہ کاری اور صنعتی خودمختاری کے مسائل ہیں۔ Nvidia کی نئی شراکت داریاں اس کوشش کا حصہ ہیں جس کے ذریعے کمپنی اپنی چپس اور سافٹ ویئر کو روایتی ڈیٹا سینٹرز سے آگے روبوٹکس، مینوفیکچرنگ اور حقیقی دنیا میں کام کرنے والے AI نظاموں تک پھیلانا چاہتی ہے۔

