کراچی: ملائیشیا نے پاکستان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے مزید مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے ملائیشین سپلائرز اور پاکستانی مینوفیکچررز کے درمیان تعاون بڑھانے کی گنجائش پر زور دیا ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق کراچی میں پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے 59ویں سالانہ جنرل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ملائیشیا کے قونصل جنرل محمد یونس ابراہیم نے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات پر بات کی۔
قونصل جنرل نے خاص طور پر پام پر مبنی خام مال اور پاکستانی مینوفیکچرنگ شعبے کو درکار دیگر مصنوعات کی تجارت بڑھانے کے امکانات کا ذکر کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ موجودہ تجارتی تعلقات میں وسعت آئے گی اور کاروبار سے کاروبار روابط دونوں ممالک کی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ دلچسپی اور امید سفارتی و تجارتی مؤقف ہے؛ کسی نئے مخصوص سرمایہ کاری معاہدے یا مالی حجم کا اعلان اس موقع پر رپورٹ نہیں ہوا۔
اجلاس میں پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عثمان احمد نے صنعت کے لیے درآمدی پام اور فیٹی خام مال کی اہمیت اجاگر کی۔ ان کے مطابق شعبے کو عالمی خام مال کی قیمتوں، شرح مبادلہ، توانائی و یوٹیلیٹی لاگت، مالیاتی ضروریات، ٹیکس اور ریگولیٹری تعمیل جیسے دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے ایسے ضروری خام مال کے لیے مسابقتی ٹیرف ڈھانچے کی ضرورت پر بھی زور دیا جو مقامی طور پر کافی مقدار میں دستیاب نہیں۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے اسمگلنگ، انڈر انوائسنگ اور غیر معیاری مصنوعات سے متعلق خدشات بھی اٹھائے گئے اور ضابطوں کی پابندی کرنے والے مینوفیکچررز کے لیے یکساں کاروباری ماحول کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ نکات صنعت کے نمائندوں کے مؤقف کے طور پر سامنے آئے ہیں اور متعلقہ سرکاری اداروں کی کسی نئی پالیسی یا فیصلے کے طور پر رپورٹ نہیں ہوئے۔
پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان پام پر مبنی مصنوعات کی تجارت پاکستانی صابن اور دیگر مینوفیکچرنگ شعبوں کے لیے اہم سپلائی چین معاملہ ہے۔ تازہ اجلاس میں بنیادی پیش رفت تعاون کے امکانات پر سفارتی دلچسپی اور صنعت کی جانب سے پالیسی مسائل کی نشاندہی ہے؛ کسی حتمی نئے تجارتی معاہدے کی تصدیق دستیاب رپورٹ میں نہیں کی گئی۔

