اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے مارگلہ روڈ ایکسٹینشن اور سنگجانی انٹرچینج کے زیر تعمیر منصوبوں کا دورہ کر کے تعمیراتی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ متعلقہ حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ منصوبے کا تقریباً 35 فیصد ترقیاتی کام مکمل ہو چکا ہے۔ وزیر داخلہ نے تعمیراتی رفتار مزید تیز کرنے اور کام مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

منصوبے کا بنیادی مقصد مارگلہ روڈ کو موٹروے کے ساتھ منسلک کر کے وفاقی دارالحکومت کے لیے ایک اضافی اور متبادل رسائی فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس رابطے سے خیبر پختونخوا کی سمت سے اسلام آباد آنے اور واپس جانے والے مسافروں کے لیے سفر آسان ہونے کی توقع ہے، جبکہ اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ جانے والے افراد کو بھی ایک اور راستہ میسر آئے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ جی ٹی روڈ سے آنے والے مسافروں اور اسلام آباد کے متعلقہ سیکٹرز کے رہائشیوں کو بھی نئی سڑک اور انٹرچینج سے فائدہ ہوگا۔ منصوبے میں ایک انڈر پاس اور ایک انٹرچینج شامل ہیں، جو مارگلہ روڈ اور موٹروے کے درمیان نئے روڈ نیٹ ورک کا حصہ بنیں گے۔

وزیر داخلہ نے دورے کے دوران جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا معائنہ کیا اور متعلقہ افسران سے مختلف حصوں کی تکمیل کی صورت حال دریافت کی۔ ان کے ہمراہ چیئرمین کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔

حکام کے مطابق منصوبے میں ماحولیاتی پہلوؤں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ تعمیراتی کام کے ساتھ شجرکاری اور سبز علاقوں کی بہتری پر توجہ دی جا رہی ہے اور ہزاروں نئے درخت لگانے کا عمل بھی منصوبے کا حصہ ہے۔

مارگلہ روڈ کا موٹروے سے براہ راست رابطہ دارالحکومت کے موجودہ داخلی راستوں پر ٹریفک کے دباؤ کو تقسیم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے عملی ٹریفک اثرات منصوبے کی مکمل تکمیل اور نئے روٹ کے فعال ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔ فی الحال سرکاری بریفنگ کے مطابق تعمیراتی پیش رفت 35 فیصد ہے اور متعلقہ اداروں کو رفتار بڑھانے کی ہدایت دی گئی ہے۔