اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پاور ڈویژن نے ہری پور کے علاقے پدھانہ میں 132 کے وی گرڈ اسٹیشن قائم کرنے کی سفارش کی ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں رکن قومی اسمبلی محمد ادریس کی زیر صدارت اجلاس میں کمیٹی نے متعلقہ حکام کو منصوبے کے لیے اضافی فنڈنگ کا کیس تیار کرنے اور ضروری تکنیکی و انتظامی اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت کی۔

پاور ڈویژن کے سیکریٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ سابقہ سفارش کی تعمیل میں پدھانہ میں مجوزہ 132 کے وی گرڈ اسٹیشن سے متعلق رپورٹ جمع کرا دی گئی ہے۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کے چیف ٹیکنیکل سروسز اور دیگر حکام نے بجلی کے مقامی نظام اور مجوزہ منصوبے کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں سرائے صالح، ہری پور کے زیر تعمیر 132 کے وی گرڈ اسٹیشن کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ حکام کے مطابق یہ منصوبہ پرانے 66 کے وی انفراسٹرکچر کی تبدیلی کے لیے ابتدائی طور پر 2008 میں تصور کیا گیا تھا، جبکہ 2020 میں گرڈ اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد کی تکنیکی جانچ میں موجودہ لوڈ کے تناظر میں اس منصوبے کی تکمیل کے جواز سے متعلق سوالات سامنے آئے۔

رکن قومی اسمبلی بابر نواز خان نے سرائے صالح منصوبے کی فزیبلٹی، منظوری، زمین کی قیمت، اخراجات، خریدے گئے آلات اور مبینہ طور پر 80 فیصد کام مکمل ہونے کے باوجود منصوبہ نامکمل رہنے پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے پیسکو سے ہیزکو کو 12 کروڑ 50 لاکھ روپے کی منتقلی سے متعلق ریکارڈ کی جانچ اور کسی بے ضابطگی کی صورت میں ذمہ داری کے تعین کا مطالبہ بھی کیا۔ یہ نکات رکن اسمبلی کے اٹھائے گئے تحفظات ہیں اور انہیں کسی حتمی تحقیقاتی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

کمیٹی کے سامنے مقامی صارفین کو لوڈشیڈنگ، کم وولٹیج اور پرانے 66 کے وی نظام کے باعث درپیش مشکلات بھی بیان کی گئیں۔ تفصیلی غور کے بعد کمیٹی نے وسیع تر عوامی مفاد میں پدھانہ کے 132 کے وی گرڈ اسٹیشن کی سفارش کی۔ پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ موجودہ مختص رقم سے منصوبہ مکمل نہیں ہو سکے گا اور اضافی فنڈنگ کے لیے مجاز فورم کے سامنے علیحدہ کیس کا جواز پیش کرنا ہوگا۔ اس مرحلے پر فیصلہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارش ہے؛ فنڈنگ اور عملی تعمیر کے اگلے مراحل متعلقہ منظوریوں سے مشروط رہیں گے۔