لاہور: وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے سیالکوٹ اور راولپنڈی کے درمیان نئی مارکۂ حق مسافر ٹرین 15 اکتوبر سے چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق وزیر نے بتایا کہ ٹرین سیالکوٹ۔راولپنڈی۔سیالکوٹ روٹ پر چلے گی۔ پاکستان ریلوے کے ایک سینئر افسر کے مطابق اس سیکشن پر ماضی میں سیالکوٹ پیسنجر کے نام سے مقامی ٹرین چلتی تھی، جو 1985 میں بند کر دی گئی تھی۔
وزیر ریلوے نے ریلوے انتظامیہ کو نئی سروس شروع کرنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم رپورٹ میں ٹرین کے مکمل ٹائم ٹیبل، راستے میں رکنے والے اسٹیشنوں، کرایوں، کوچز کی تعداد یا روزانہ اور ہفتہ وار فریکوئنسی کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ مسافروں کے لیے عملی منصوبہ انہی معلومات کے سرکاری طور پر جاری ہونے کے بعد واضح ہوگا، اس لیے اعلان کو فوری طور پر ٹکٹوں کی دستیابی یا حتمی شیڈول نہیں سمجھنا چاہیے۔
حنیف عباسی نے یہ بھی کہا کہ موہنجوداڑو ایکسپریس کو 15 ستمبر سے بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو دونوں خدمات کی بحالی اور آغاز کے لیے تکنیکی، آپریشنل اور مسافر سہولت کے اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ ان کے مطابق معطل ٹرینوں کو مرحلہ وار واپس لایا جائے گا اور پاکستان ریلوے مسافر سہولیات بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ریلوے نیٹ ورک میں کسی نئی یا بحال شدہ سروس کی کامیابی کا انحصار صرف افتتاح پر نہیں بلکہ وقت کی پابندی، محفوظ بوگیاں، انجنوں کی دستیابی، اسٹیشن سہولیات، کرایے کی معقولیت اور مستقل آپریشن پر ہوتا ہے۔ سیالکوٹ اور راولپنڈی کے درمیان براہ راست رابطہ کاروباری، تعلیمی اور خاندانی سفر کرنے والوں کے لیے اہم ہو سکتا ہے، جبکہ موہنجوداڑو ایکسپریس کی بحالی سندھ کے اندر علاقائی رابطوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔
وزیر نے مین لائن ون منصوبے کے بارے میں بھی کہا کہ تیاری آخری مرحلے میں ہے اور کام جنوری میں شروع ہونے کا شیڈول ہے۔ یہ ایک علیحدہ اور بڑے پیمانے کا منصوبہ ہے، جس کے مالی و انتظامی مراحل نئی مسافر ٹرین کے اعلان سے مختلف ہیں۔ موجودہ خبر میں صرف وزیر ریلوے کے اعلان اور بیان کردہ تاریخوں کی تصدیق ہے؛ حتمی نوٹیفکیشن، ٹائم ٹیبل اور بکنگ شروع ہونے کی اطلاع پاکستان ریلوے کی جانب سے جاری ہونے پر الگ جانچ ضروری ہوگی۔ — اردو ہیڈلائنز ڈیسک




