لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے وی آئی پی دورے کو بنیاد بنا کر کمپیوٹر سائنس کے سپلیمنٹری امتحان کو ملتوی کرنے کی کوشش پر ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعلیٰ نے واقعے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری یا وی آئی پی دوروں کی وجہ سے عام شہریوں، بالخصوص طلبہ، کو مشکلات کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ڈپٹی کمشنر نے امتحان ملتوی کرنے کے لیے وی آئی پی دورے کو وجہ بنا کر ان کی واضح ہدایات کی خلاف ورزی کی۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ طلبہ کے امتحانات اور تعلیمی سرگرمیوں میں سرکاری مصروفیات کے باعث خلل قابل قبول نہیں اور انتظامیہ کو عوامی سہولت کو مقدم رکھنا چاہیے۔

واقعے کے بعد ڈپٹی کمشنر میر رضا اوزگن کو عہدے سے ہٹانے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ دستیاب سرکاری رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ امتحان عملاً ملتوی ہوا تھا یا انتظامی مداخلت کے بعد مقررہ وقت پر منعقد کیا گیا، اس لیے اس خبر میں صرف امتحان ملتوی کرنے کی کوشش اور اس پر ہونے والی انتظامی کارروائی کو بیان کیا گیا ہے۔

یہ اقدام پنجاب حکومت کی اس پالیسی کے تناظر میں اہم ہے جس کے تحت ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ سرکاری دوروں اور پروٹوکول کے انتظامات سے شہری خدمات اور معمول کی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔ وزیراعلیٰ کے فیصلے سے یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ تعلیمی امتحانات کے شیڈول میں غیر تعلیمی وجوہ کی بنیاد پر مداخلت کو انتظامی جواب دہی کے دائرے میں دیکھا جائے گا۔ معاملے میں کسی فوجداری الزام یا عدالتی کارروائی کی اطلاع نہیں دی گئی؛ دستیاب معلومات کے مطابق کارروائی انتظامی نوعیت کی ہے اور نتیجہ ڈپٹی کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔