راولپنڈی: اینکر پرسن اور پروگرام میزبان رابعہ احسن اتوار کو راولپنڈی کے گلشن آباد علاقے میں اپنے گھر میں گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئیں۔ پولیس نے ان کے شوہر کو حراست میں لے کر مشتبہ ہتھیار قبضے میں لے لیا ہے اور واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
سٹی پولیس افسر حسن مشتاق سکھیرا کے بیان کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد سینئر پولیس افسران اور فرانزک ماہرین کی ٹیم جائے وقوع پر پہنچی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گھر کے ایک مرد ملازم نے بتایا کہ مقتولہ کے شوہر نے اسے کہا تھا کہ گولی اتفاقی طور پر چلی۔ یہ مؤقف فی الحال تفتیش کا حصہ ہے اور اسے واقعے کی حتمی وجہ یا عدالتی طور پر ثابت شدہ حقیقت نہیں سمجھا جا سکتا۔
پولیس نے بتایا کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیمیں جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں جبکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ سی پی او کے مطابق واقعے کا مقدمہ درج کیا جا رہا ہے اور تحقیقات میرٹ پر کی جائیں گی۔ پولیس نے ابھی کسی شخص کے خلاف قتل کا جرم ثابت ہونے یا واقعے کے محرک کے بارے میں حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا۔
خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے رابعہ احسن کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی مکمل، غیر جانب دار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ذمہ داروں کے تعین اور احتساب پر زور دیا۔ ان کا ردعمل اس مرحلے پر پولیس کی جاری تفتیش سے الگ ایک عوامی اور سرکاری مطالبہ ہے۔
اس کیس میں اہم اگلے مراحل پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک جانچ، ہتھیار کے معائنے، گواہوں کے بیانات اور پولیس کی قانونی کارروائی ہوں گے۔ اس وقت دستیاب مصدقہ معلومات کے مطابق رابعہ احسن کی گولی لگنے سے موت ہوئی، ان کے شوہر کو حراست میں لیا گیا، مشتبہ ہتھیار پولیس کے قبضے میں ہے اور تفتیش جاری ہے۔ کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور قانونی عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔
