تہران: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اعلیٰ حکام پیر کو ایران کی قیادت اور اعلیٰ سکیورٹی عہدیداروں سے تہران میں مشاورت کریں گے۔ رائٹرز نے سعودی اور ایرانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تینوں رکن ممالک اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پہلی مشترکہ اعلیٰ سطحی ملاقات ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی نمائندگی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر جبکہ ترکی کی نمائندگی انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن کریں گے۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے سرکاری ٹیلی وژن پر بھی ان شخصیات کے تہران آنے اور علاقائی سلامتی پر مشاورت کی تصدیق کی۔
مذاکرات ایسے وقت طے ہوئے ہیں جب یمن کے ایران سے منسلک حوثی گروپ کے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور واشنگٹن و تہران کے درمیان بیانات بھی سخت ہوئے ہیں۔ سعودی فضائی دفاع نے اتوار کو مزید میزائل اور ڈرون روکنے کا دعویٰ کیا تھا۔ ان فوجی واقعات کی تفصیلات میں فریقین کے بیانات بنیادی ماخذ ہیں اور آزادانہ تصدیق ہر واقعے کے لیے یکساں طور پر دستیاب نہیں۔
رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ موجودہ ملاقات کی تجویز پاکستان کی جانب سے سامنے آئی تھی، جب فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گزشتہ ہفتے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستان اور قطر حالیہ مہینوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے الگ الگ سفارتی رابطے بھی کرتے رہے ہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پایا تھا۔ رائٹرز کے مطابق معاہدے کے پہلے آرٹیکل میں کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان کے خلاف حملہ تصور کرنے کا اصول شامل ہے۔ پاکستان نے گزشتہ ہفتے معاہدے کی منظوری مکمل کی، جبکہ ترکی میں پارلیمانی توثیق کا عمل جاری ہے۔
سعودی نائب وزیر برائے عوامی سفارت کاری رائد کرملی نے کہا کہ تہران کا دورہ موجودہ بحران کو کم کرنے، سفارتی حل کی حوصلہ افزائی اور قطر و پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت کے وسیع عمل کا حصہ ہے۔ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ اور ترکی کی وزارت خارجہ نے رائٹرز کی درخواست پر فوری ردعمل نہیں دیا تھا۔
اس ملاقات سے کسی سمجھوتے یا جنگ بندی کا نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ تصدیق شدہ پیش رفت فی الحال یہ ہے کہ تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام تہران میں ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور قیادت کے ساتھ علاقائی سلامتی اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر مشاورت کے لیے طے شدہ دورہ کر رہے ہیں۔ مذاکرات کے بعد جاری سرکاری بیانات سے یہ واضح ہوگا کہ فریقین کسی عملی سفارتی فریم ورک پر متفق ہوئے یا نہیں۔

