وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کی ترقی کو حکومت کی اہم ترجیح قرار دیتے ہوئے نوجوانوں کے لیے ہنر مندی پروگرام اور بجلی کی پیداوار کے لیے بڑے سولرائزیشن منصوبے کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں ضم شدہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبہ سے گفتگو کرتے ہوئے یہ پالیسی سمت بیان کی۔
وزیر منصوبہ بندی کے مطابق ہنر مندی پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو روزگار اور کاروبار کے لیے ایسی عملی صلاحیتیں فراہم کرنا ہے جن کی مقامی اور قومی مارکیٹ میں طلب ہو۔ ضم شدہ اضلاع طویل عرصے سے سکیورٹی بحران، کمزور بنیادی ڈھانچے، محدود صنعتی سرگرمی اور تعلیم و روزگار کے کم مواقع سے متاثر رہے ہیں۔
سولرائزیشن منصوبے کا مقصد بجلی کی فراہمی کے مسائل کم کرنا اور ایسے علاقوں میں متبادل توانائی فراہم کرنا ہے جہاں گرڈ انفراسٹرکچر کمزور یا غیر مستحکم ہے۔ حکومت نے ابھی منصوبے کی مکمل لاگت، پیداواری صلاحیت یا تمام مقامات کی تفصیل جاری نہیں کی، اس لیے اس کے حتمی دائرہ کار کا تعین متعلقہ ترقیاتی منظوریوں کے بعد ہوگا۔
احسن اقبال نے تعلیم کو غربت اور پسماندگی کم کرنے کے لیے بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ ضم شدہ اضلاع میں نوجوان آبادی کا بڑا حصہ ہونے کے باعث تعلیم، ڈیجیٹل مہارت، تکنیکی تربیت اور مقامی روزگار کی فراہمی کو امن اور طویل مدتی معاشی استحکام سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
اعلان کردہ پروگراموں کی کامیابی کا انحصار بروقت فنڈنگ، شفاف انتخاب، تربیت کے معیار اور نجی شعبے سے روزگار کے روابط پر ہوگا۔ سولر منصوبے کے لیے بھی تنصیب کے ساتھ دیکھ بھال، بیٹری اسٹوریج اور مقامی تکنیکی عملے کی ضرورت ہوگی۔ حکومت نے ترقی کو ترجیح قرار دیا ہے، لیکن ضم شدہ اضلاع میں نتائج کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ نئے منصوبے مقامی آبادی کو مستقل بجلی، تعلیم اور آمدن کے مواقع کس حد تک فراہم کرتے ہیں۔




