وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے 3 ہزار 500 سے زیادہ دیہات میں سیوریج، نکاسی آب اور پختہ گلیوں کے منصوبے شروع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ لاہور میں دیہی ترقی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ اداروں کو بنیادی شہری سہولتوں کو دیہی آبادی تک وسیع کرنے کے لیے منصوبوں پر عمل درآمد تیز کرنے کا کہا۔
دیہی پنجاب کے متعدد علاقوں میں کھلے نالے، بارش کے پانی کی ناقص نکاسی اور کچی گلیاں صحت، آمدورفت اور صفائی کے مسائل پیدا کرتی ہیں۔ مناسب سیوریج اور ڈرینج انفراسٹرکچر پانی جمع ہونے، مچھروں اور آلودہ پانی سے پیدا ہونے والے خطرات کم کر سکتا ہے، جبکہ پختہ گلیاں روزمرہ نقل و حرکت بہتر کرتی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ماڈل ولیج منصوبوں کے لیے کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشن کا طریقہ کار متعارف کرانے کی بھی ہدایت کی، جس کا مقصد مقامی آبادی کو منصوبہ بندی، نگرانی یا دیکھ بھال کے عمل میں شامل کرنا ہے۔ ایسے نظام کی کامیابی کے لیے مقامی نمائندگی، شفاف فنڈنگ اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم اہم ہوگی۔
حکومت نے اس اعلان میں تمام 3,500 دیہات کی فہرست، مجموعی لاگت یا ہر منصوبے کی تکمیل کی مدت جاری نہیں کی۔ بڑے پیمانے پر دیہی انفراسٹرکچر پروگرام میں ڈیزائن، ٹھیکوں، معیار اور بعد کی دیکھ بھال کے لیے مضبوط نگرانی ضروری ہوگی تاکہ تعمیرات مختصر مدت کے بعد ناکارہ نہ ہوں۔
اسی اجلاسوں کے سلسلے میں وزیراعلیٰ نے الیکٹرک بائیک اسکیم کے پورٹل کو بھی توسیع کے لیے کھولنے کی ہدایت کی، لیکن دیہی ترقی کا منصوبہ الگ پالیسی اقدام ہے۔ 3,500 سے زائد دیہات کا دائرہ اسے صوبائی سطح کا بڑا بنیادی سہولت پروگرام بناتا ہے۔ اس کے حقیقی اثرات کا جائزہ مکمل ہونے والے منصوبوں، نکاسی آب میں بہتری اور مقامی آبادی کے استعمال سے کیا جا سکے گا۔




