سانتا فے: امریکی ریاست نیو میکسیکو کے ایک جج نے میٹا پلیٹ فارمز کو 25 ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے، جب جیوری نے کمپنی کو صارفین کے ڈیٹا کی رازداری سے متعلق بیانات میں گمراہ کن طرز عمل کا ذمہ دار قرار دیا۔ یہ مقدمہ ان الزامات سے متعلق تھا کہ سیاسی مشاورتی ادارے کیمبرج اینالیٹیکا نے لاکھوں فیس بک صارفین کی معلومات ان کی رضامندی کے بغیر حاصل کی تھیں۔

رائٹرز کے مطابق نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز نے فیصلے کو کمپنی کے خلاف کسی ایک امریکی ریاست کی جانب سے دیے گئے سب سے بڑے، یا بڑے ترین، فیصلوں میں شمار کیا۔ جج فرانسس میتھیو نے اپنے حکم میں لکھا کہ فیس بک کا طرز عمل برسوں تک جاری رہا اور کمپنی کے بنیادی کاروباری طریقوں سے متعلق تھا۔

عدالت نے ریاستی قانون کی بنیاد پر کہیں زیادہ، 219 ارب ڈالر سے زائد، ممکنہ جرمانے کا حساب بھی بیان کیا، تاہم حتمی رقم 25 ارب ڈالر مقرر کی گئی۔ میٹا کے ترجمان کی جانب سے رائٹرز کو فوری ردعمل نہیں ملا۔ کمپنی پہلے عدالتی دستاویزات میں مؤقف اختیار کر چکی ہے کہ جرمانہ 3.45 ارب ڈالر سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے اور ریاست یہ ثابت نہیں کر سکی کہ کسی صارف کو حقیقتاً گمراہ کیا گیا۔

مقدمہ 2021 میں دائر کیا گیا تھا۔ ریاست نے الزام لگایا تھا کہ فیس بک نے نیو میکسیکو کے صارفین کو اس بارے میں غلط یا گمراہ کن معلومات دیں کہ ان کے ڈیٹا تک کس کی رسائی ہے اور کمپنی نفرت انگیز مواد، غلط معلومات اور داخلی پالیسیوں سے کیسے نمٹتی ہے۔ کیمبرج اینالیٹیکا، جو اب بند ہو چکی ہے، 2016 کی امریکی صدارتی مہم میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے لیے کام کر چکی تھی اور ایک تھرڈ پارٹی ایپ کے ذریعے فیس بک اکاؤنٹس سے حاصل معلومات استعمال کرنے کا معاملہ عالمی تنازع بنا تھا۔

ستمبر میں جیوری نے کمپنی اور اس کی قیادت کے 29 میں سے 26 بیانات کو گمراہ کن قرار دیا تھا اور ریاستی صارف تحفظ قوانین کی 43 ملین سے زیادہ خلاف ورزیوں کا تعین کیا۔ نیو میکسیکو کے قانون کے تحت جرمانے کی رقم ریاست کے تعلیمی نظام کو جانے کی گنجائش ہے۔

یہ حکم قانونی عمل کا اہم مرحلہ ہے، تاہم بڑے کارپوریٹ مقدمات میں اپیل کا حق موجود رہتا ہے۔ اس لیے 25 ارب ڈالر کی رقم کو فوری حتمی وصولی کے بجائے موجودہ عدالتی حکم کے طور پر بیان کرنا زیادہ درست ہے۔