پاکستان نے اردو زبان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو سرکاری ڈیجیٹل خدمات سے جوڑنے کے لیے ’براق‘ نامی اے آئی ماڈل کو اپنے وسیع تر ڈیجیٹل گورننس پروگرام کا حصہ بنایا ہے۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ کے مطابق اس ماڈل کے ساتھ سرکاری سطح کی کمپیوٹنگ صلاحیت بھی تیار کی جا رہی ہے تاکہ حساس سرکاری اور شہری ڈیٹا کو بیرونِ ملک بھیجنے کے بجائے پاکستان کے اندر پراسیس کیا جا سکے۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیر آئی ٹی نے عالمی بینک کے ایک پینل میں ڈیجیٹل سرکاری خدمات پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ براق اور اس کے پیچھے موجود پبلک کمپیوٹ انفراسٹرکچر ایک بڑے پروگرام کی اے آئی تہہ تشکیل دیتے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد سرکاری خدمات کو زیادہ قابلِ رسائی، مقامی زبانوں سے ہم آہنگ اور ڈیٹا کے اعتبار سے محفوظ بنانا ہے۔

اردو میں تیار کیا جانے والا مقامی اے آئی ماڈل خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ پاکستان میں بڑی آبادی انگریزی کے مقابلے میں اردو یا علاقائی زبانوں میں سرکاری معلومات اور خدمات تک زیادہ آسانی سے رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ اگر ایسے ماڈل کو سرکاری پورٹلز، رہنمائی کے نظام اور شہری خدمات میں مؤثر طور پر شامل کیا گیا تو درخواستوں، معلومات اور بنیادی سرکاری تعامل کو آسان بنایا جا سکتا ہے۔

دوسرا اہم پہلو ڈیٹا خودمختاری ہے۔ بیرونی کلاؤڈ یا غیر ملکی ماڈلز پر مکمل انحصار کی صورت میں حساس معلومات کے مقام، رسائی اور قانونی تحفظ سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ مقامی کمپیوٹ صلاحیت کے ذریعے ایسے ڈیٹا کو ملک کے اندر رکھنے میں مدد ملے گی۔ تاہم عملی تحفظ کا انحصار سائبر سکیورٹی، رسائی کے ضابطوں، آڈٹ، ڈیٹا گورننس اور رازداری کے مؤثر قوانین پر بھی ہوگا۔

دستیاب بیان میں براق کے تکنیکی حجم، تربیتی ڈیٹا، بینچ مارک کارکردگی یا عوامی اجرا کی مکمل تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی لیے اس مرحلے پر اسے پاکستان کے سرکاری اے آئی انفراسٹرکچر کی سمت میں ایک پالیسی اور تکنیکی اقدام سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی مخصوص کارکردگی کے دعوے کی حتمی تصدیق۔

پاکستان میں سرکاری خدمات کی ڈیجیٹل منتقلی کے ساتھ مقامی زبانوں کی شمولیت ایک اہم چیلنج رہی ہے۔ براق کی افادیت کا اصل امتحان اس وقت ہوگا جب اسے شہریوں کے استعمال کے حقیقی نظاموں میں شامل کیا جائے گا اور اس کی درستگی، شفافیت، رازداری اور مختلف اردو لہجوں و اصطلاحات کے ساتھ کارکردگی کو عملی سطح پر جانچا جائے گا۔